اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بی بی سی اردو سروس کی رخصتی

آٹھویں قسط

اس میں بی بی سی کے تاریخ ساز نامہ نگاروں سے گفتگو کی رپورٹنگ کے دوران ان پر کیا بیتی: ملا عمر اور اسامہ بن لادن کا انٹرویو کس نے کیا اور کس زبان میں کیا ساتھ ہی ان رپورٹس کی تاریخی یادیں کون سی ہیں۔

شرکاء: ظفر عباس ، رحیم اللہ یوسف زئی اور ہارون رشید۔

بی بی سی ورلڈ سروس کو 80 سال پورے ہوئے۔ ان 80 برسوں میں سے 75 برس بی بی سی نے ’بش ہاؤس‘ میں گزارے۔ انھیں 75 برسوں میں سے 62 برس بی بی سی اردو سروس کے بھی ہیں۔

اس موقع پر دو اہم باتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ بی بی سی ورلڈ سروس اب بش ہاؤس کو چھوڑ رہی ہے اور اب اُس کی نشریات، مشہور زمانہ آکسفرڈ سٹریٹ کے قریب واقع براڈکاسٹنگ ہاؤس سے ہوا کریں گی۔

ظاہر ہے، بی بی سی اردو سروس بھی بش ہاؤس سے رخصت ہو جائے گی اور اس کی نشریات بھی براڈکاسٹنگ ہاؤس یعنی ’ویسٹ ون’ یا ’ڈبلیو ون‘ کہلانے والی عمارت سے ہوا کریں گی۔

موقعے کی مناسبت سے ہمارے ساتھی شفیع نقی جامعی نے بی بی سی اردو سروس کی اب تک کی تاریخ پر نظر ڈالی ہےاور تین مختلف ادوار میں بی بی سی اردو کے پروگراموں زمانے کے اعتبار سے آنے والی تبدیلیوں کا صوتی جھلکیوں کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔

کئی قسطوں میں ہونے والے اس پروگرام کو سیربین میں پیش کیا گیا اور اب یہاں بھی پییش کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کے 80 اور بی بی سی اردو سروس کے 62 سال

ساتویں قسط

شرکاء: علی احمد خان،شاہ زیب جیلانی اور وسعت اللہ خان

چھٹی قسط

شرکا: شاہد ملک، عبید صدیقی، وسعت اللہ خان اور عارف وقار۔

پانچویں قسط

1990-96/2000 کا زمانہ۔ شرکاء: رضا علی عابدی، آصف جیلانی اور علی احمد خان

چوتھی قسط

1977-1990 کا زمانہ۔ شریکِ گفتگو: راشد اشرف

تیسری قسط

اس قسط میں بی بی سی اردو سروس کے انیس سو پینسٹھ سے انیس سو ستتر کے دور کا جائزہ لیا گیا۔

دوسری قسط:

اس میں 1949 سے 1967 تک کے پہلے دور کا جائزہ لیا گیا۔

پہلی قسط:

اس میں بی بی سی ورلڈ سروس کی عمارت بش ہاؤس اور یہاں سے پیش کی جانے والی بی بی سی اردو سروس کا ایک طائرانہ جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ حصہ بش ہاؤس کو الوداع کہنے سے پہلے، 80 سال پورے ہونے پر ایک بڑی پارٹی اور ایک بڑے سے خیمے میں بنے سٹوڈیو سے براہِ راست پیش کیا گیا۔