اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’پہلے جملے کے بعد سب آسان ہو جاتا ہے‘

خالد جاوید اردو کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے 80 کی دہائی یا اس کے بعد لکھنا شروع کیا اور اب اردو فکشن لکھنے والے ان لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں جن سے اردو کے مستقبل کے لیے توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔ وہ کہانیوں کے دو مجموعوں اور ایک ناول کے علاوہ دو تنقیدی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں انھوں نے میلان کندیرا اور گبرئیل گارشیا مارکیز کا تعارف کرایا ہے۔ یہ انٹرویو ان سے تب کیا گیا جب وہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کے سلسلے میں پاکستان آئے ہوئے تھے۔

ملاقات: انور سِن رائے