اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’جان بچانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا‘

گزشتہ اتوار کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے سینٹرل جیل پر دو سو پچاس کے قریب مسلح طالبان نے حملہ کر کے تین سو چوراسی قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا۔جن میں زیادہ تر شدت پسند تھے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس میں طالبان کے اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔

واقعے کی مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر سینٹرل جیل بنوں پہنچے۔جہاں انہوں نے جیل حکام اور ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے بات کی۔