پشتو سنگر باچہ زریں جان کا انتقال

پشتو سنگر باچہ زریں جان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گلاد اخپلو کیگی نکڑی سوک د پردو نہ گلا (شکایت اپنوں سے کی جاتی ہے غیروں سے نہیں ) جیسی مشہور پشتو غزلیں گانے والی باچہ زرین جان طویل علالت کے بعد پشاور میں انتقال کر گئی ہیں۔ انہیں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

مردان کے ایک گاؤں کلپنے پار ہوتی میں انیس سو بیالیس میں پیدا ہونی والی پشتو غزل کی یہ ملکہ انتقال سے پہلے اپنے آخری ایام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں پشاور میں کاٹ رہی تھیں۔

انہوں نے پہلی مرتبہ سات برس کی کم عمر میں انیس سو انچاس میں ریڈیو پاکستان پر گایا اور پھر پشتو موسیقی پر ایسی چھائیں کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ انہوں نے دیگر زبانوں میں جیسے کہ ہندکو، پنجابی اور سرائیکی گیت گائے ہیں۔

زرین جان نے جنہیں پیار سے بی بی گل بھی کہا جاتا تھا ریڈیو، ٹی وی اور سٹیج کے لیے ہزاروں گیت گائے۔ ان میں کئی ’اللہ ہو شا اللہ ہو‘ آج بھی لوگوں کے ذہن میں زندہ ہیں۔

زرین جان نے موسیقی کی تعلیم اپنی بڑی بہن دلبر جان اور استاد پذیر خان جوکہ منیر سرحدی کے والد تھے سے حاصل کی تھی۔ غلام فرید نے اردو میں ان کی تربیت کی۔ سن انیس سو پینسٹھ اور اکہتر کی بھارت کے ساتھ جنگوں میں انہوں نے کئی قومی گیت بھی گائے۔ لائیو نشریات کی وجہ سے انہیں ریڈیو پاکستان میں تمام دن گزارنا پڑتا تھا۔ انہوں نے بغص ڈراموں میں بھی کام کیا ۔

باچہ زرین جان کو سال دو ہزار میں پشتو موسیقی کے لیے ان کی خدمات کے لیے تمغہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔ زرین نے شادی نہیں کی اور اپنی زندگی پشتو موسیقی کے لیے وقف کر دی تھی۔ لیکن حکومت کی جانب سے انہیں دیا جانے والا ماہانہ اڑھائی ہزار کا خرچ بھی موت سے قبل اطلاعات ہیں کہ بند کر دیا گیا تھا۔

چند سال قبل خیبر پختونخوا کے ایک وزیر نے جب ان کے گھر آکر انہیں امداد کی بحالی کی یقین دہانی کروائی تو اس کے فوراً بعد انہیں قرضہ دینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ قرض دار سمجھے جیسے حکومت نے انہیں لاکھوں روپے دے دیے ہیں جبکہ وزیر نے محض تین ہزار روپے دیے تھے۔

اسی بارے میں