آسام: تشدد کی آگ میں جھلسی زندگی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 13:09 GMT 18:09 PST
  • اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے مشہور بھارت کی شمالی مشرقی ریاست آسام کے بعض حصوں میں گزشتہ دنوں بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے نسلی تشدد سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور درجنوں جانیں گئیں۔
  • آسام میں بوڈو قبائل اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں مسلمانوں کے سینکڑوں گاؤں تباہ کر دیے گئے ہیں۔
  • ہر طرف جلے اور لٹے ہوئے مکانات یہاں کے باشندوں پر ہونے والے تشدد کے گواہ ہیں ۔
  • فسادات کے دو مہینے بعد بھی متاثرین اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکے ہیں۔
  • اس لڑائی میں لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے ہیں اور کے رہنے کے لیے عارضی جھونپڑیاں بنائی گئی ہیں ۔
  • اس لڑائی میں بوڈو قبائل کے بھی کچھ گاؤں متاثر ہوئے ہیں اور قبائلیوں کو بھی ریلیف کیمپوں میں پناہ لینی پڑی ہے۔
  • تشدد کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑا ہے اور ان میں سے بہت سے اعصابی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں
  • ریلیف کیمپوں میں بہت سے ایسے بچے ہیں جن جن کے والدین کو حالیہ حملوں میں ہلاک کر دیا گیا ہے اور کئی نے یہ واقعات خود دیکھے۔ یہ بھی ایسا ہی ایک بچہ ہے۔
  • یہ خواتین کیمپ میں ایک ساتھ کھانا بناتے ہوئے اپنا غم کچھ دیر کے لیے بھول گئی ہیں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔