نابینا فوٹوگرافرز کی تصاویر کی نمائش

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 13:38 GMT 18:38 PST
  • دلی کے فرنچ کلچرل سینٹر میں ان دنوں نابینا لوگوں کی کھینچی گئی تصاویر کی نمائش ہو رہی ہے۔ اس تصویر کے خالق روی ٹھاکر بچپن سے نابینا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے وہ سائیکل کی آواز کا پیچھا کرکے یہ تصویر کھينچنے کی کوشش کررہی تھے تو سمندر کی آواز کو سائیکل کی آواز سمجھ بیٹھے اور دونوں آوازوں میں فرق نہیں سمجھ پا رہے تھے لیکن آخرکار وہ تصویر لینے میں کامیاب رہے۔
  • بھاویش پاٹل نے یہ تصویر لی ہے۔ وہ بھی پیدائشی نابینا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبوتروں کے پھڑپھڑانے کی آواز کا پیچھا کیا اور تصویر کھینچی اور تصویر کھینچنے کے تھوڑی دیر بعد بارش ہونے لگی۔
  • راہل شرشٹ نے یہ تصویر نابینا لوگوں کے لیے ایک فوٹوگرافی کی ایک ورک شاپ کے دوران لی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کرسی اور دروازے کو چھو کر ان میں فرق محسوس کر لیتے ہیں۔ وہ روشنی کو بھی محسوس کرکے وقت کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے زمانے کی اس کرسی اور پرانے زمانے کے دروازے کو ایک ساتھ دکھا کر وہ پرانے اور نئے کا ساتھ دکھانا چاہتے تھے۔
  • ویبھو گرکل نے یہ تصویر ممبئی میں ایک نمائش کے دوران لی تھی۔ ویبھو کا کہنا ہے کہ اس مجسمے کو چھونے کی اجازت نہیں تھی اس لیے انہوں نے دور سے اس کی تصویر لی اور لوگوں تک پہنچایا۔
  • ایشون کو بہت کم نظر آتا ہے۔ انہوں نے آنکھوں کا معائنہ کرنے کے اس آلے کی تصویر اپنے ڈاکٹر کی کلینک میں لی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ دھیرے دھیرے ان کی بینائی کم ہورہی تھی تو اکثر ڈاکٹر کے یہاں جاتے تھے تبھی انہوں نے یہ تصویر لی تھی۔
  • مہیش عمرانیہ نے یہ تصویر سنہ دو ہزار چھ کی گرمیوں میں لی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی کی ایک دوپہر میں جب انہوں نے پیڑ کی پتیوں کو چھوا تو انہیں احساس ہوا کیا وقت ہے اور تب انہوں نے یہ تصویر لی۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔