کوڑے کرکٹ سے رزق کی تلاش

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 07:50 GMT 12:50 PST
  • یمن میں معاشرتی اور معاشی درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پر آنے والے اس اقلیتی گروہ کو الخادم کہا جاتا ہے۔ گہری رنگت کے حامل ان لوگوں کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے اور یہ زیادہ تر کوڑا چننے والے یا صفائی کا کام کرتے ہیں۔ یہ سینکڑوں کی تعداد میں طائز شہر کے قریب واقع المکالب کے مقام پر کوڑا پھینکنے کی جگہ پر آتے ہیں تاکہ ری سائیکلنگ کے لیے کاٹھ کباڑ اکھٹا کر سکیں۔
  • ہر روز علی الصبح سے شام گئے تک کوڑے کے ٹرک یہاں آتے ہیں جہاں کوڑا چننے والے انہیں دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں۔ یہاں روزانہ پچاس ٹن کچرا پھینکا جاتا ہے۔ نقصان دہ صنعتی اور طبی کچرا بھی اس کوڑے میں شامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگوں کو زہریلے مادے سے شدید طبی مسائل کا خطرہ رہتا ہے۔
  • کوڑا چننے والے پلاسٹک کی بوتلیں، دھاتی ٹکڑے اور گتے کی چیزیں اکٹھی کرتے ہیں جنہیں وہ ری سائیکلنگ کرنے والوں کو بیچ کر پیسے حاصل کرتے ہیں۔ ایک مقامی کمپنی انہیں مفت کھانا فراہم کرتی ہے۔ یہ لوگ اکثر کوڑا ڈھونڈتے ہوئے ہی گندے ہاتھوں سے کھانا کھا لیتے ہیں۔
  • ایک اندازے کے مطابق کوڑا چننے والے ستر فیصد افراد پندرہ سال کم عمر کے ہیں۔ دس برس کی عاصمہ کبھی سکول نہیں گئیں۔ انہوں نے چھ برس کی عمر سے کام شروع کیا کیونکہ ان کی والدہ کے دو مزید چھوٹے بچے تھے جن کی انہیں دیکھ بھال کرنا تھی۔ عاصمہ کے والد کئی برس پہلے کام کی غرض سے سعودی عرب گئے اور تب سے ان سے کوئی رابطہ نہیں۔
  • بچوں نے ننگے پاؤں کوڑے کے ڈھیروں پر چڑھنے اور اس میں پھنس جانے کی کئی دہلا دینے والی کہانیاں سنائیں۔ ان میں ہیپیٹائٹس، ڈائریا، جلد اور آنکھوں کے انفیکشن عام ہیں۔ تاہم یہ خطرات اور بدبو ان کی حوصلہ شکنی نہیں کر پاتے۔ یہ بچے ایک ہزار ریال روزانہ کما لیتے ہیں۔
  • تنائی صالح انیس برس کی ہیں انہیں یہ کام کرتے ایک دہائی ہونے کو ہے۔ ان کا کہنا ہے’مجھے چار بچوں کو پالنا ہے، یا تو میں یہاں کام کر سکتی ہوں یا جسم فروش یا بھکاری بن سکتی ہوں۔ میں الخادم ہوں، کوئی مجھے صاف ملازمت نہیں دےگا‘۔ تنائی رنگت خراب ہونے سے بچنے کے لیے چہرے پر ہلدی کا لیپ کرتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اس سے نہ صرف ان کی رنگت نکھرے گی بلکہ یہ سورج کی شعاعوں سے بچاؤ کا کام بھی کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آپ جتنے سیاہ ہوتے ہیں اتنے ہی بدترین ہوتے ہیں۔‘
  • کئی الخادم بچے کبھی سکول نہیں گئے۔ اگر کوئی بچہ دو سال تک تعلیم حاصل کر لے اسے انتہائی خوش قسمت سمجھا جاتا ہے۔ ملازمتوں کا نہ ملنا بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی ملازمت دے گا ہی نہیں تو ایسے میں انہیں سکول بھیجنے کا فائدہ؟
  • امتیازی سلوک کے باعث ان کے لیے رہائش گاہیں انتہائی غیر محفوظ ہیں۔ چند زمیندار تو ان سے کرایہ بھی طلب کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی آمدنی کتنی محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الخادم کی اکثریت شہروں میں قائم جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک بستی بیر باشا میں ہے جہاں ساٹھ ہزار افراد رہتے ہیں۔ ان میں سے محض پانچ فیصد کو لیٹرین کی سہولت میسّر ہے۔
  • الخادم برادری کو درپیش مسائل میں اس وقت شدید اضافہ ہو گیا جب گذشتہ برس یمن میں انقلاب کی تحریک چلی ایسے میں ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا۔ مرسی کارپس سمیت بین الاقوامی امدادی اداروں نے انتہائی غربت میں رہنے والے خاندانوں کی امداد کے پروگرام شروع کیے ہیں۔
  • حسنہ صالح علی کے دو بچے ہیں اور وہ آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں تاہم وہ اب بھی کوڑا چننے کا کام کر رہی ہیں۔ ان کے شوہر چوکیدار کا کام کرتے ہیں لیکن ان کی ملازمتت مستقل نہیں ہے۔ جب وہ دونوں کام کرتے ہیں تو دن کے پندرہ سو ریال کما لیتے ہیں۔ حسنہ کو اپنی زندگی تشدد لگتی ہے اور مستقبل کے بارے میں بھی وہ زیادہ پر امید نہیں ہیں۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔