رخائن میں تازہ نسلی تشدد

آخری وقت اشاعت:  اتوار 28 اکتوبر 2012 ,‭ 18:54 GMT 23:54 PST
  • برما میں اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ اہلکار اشوک نگم کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی علاقے رخائن میں تازہ نسلی تشدد کی وجہ سے بائیس ہزار افراد بےگھر ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر روہنگیا مسلمان ہیں۔
  • اتوار کو خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں ہفتے رخائن میں بودھ آبادی اور روہنگیا مسلمانوں کے مابین پرتشدد جھڑپوں کی وجہ سے بائیس ہزار پانچ سو ستاسی افراد کو اپنا گھربار چھوڑنا پڑا جبکہ چار ہزار چھ سو پینسٹھ مکانات کو آگ لگائی گئی۔
  • اشوک نگم کا کہنا تھا کہ بےگھر ہونے والوں میں سے اکیس ہزار سات سو مسلمان تھے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • انہوں نے کہا کہ ’یہ بائیس ہزار افراد ابھی اسی علاقے میں ہیں اور انہوں نے نقل مکانی نہیں کی ہے۔ کشتیوں پر رہنے والے افراد ان کے علاوہ ہیں جو تشدد کی وجہ سے ریاستی دارالحکومت ستوے کی جانب چلے گئے ہیں‘۔
  • یاد رہے کہ جمعہ کو برما میں حکام نے کہا تھا کہ ملک کے مغربی حصے میں بودھ آبادی اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات میں کئی دیہات اور شہروں کے کئی حصے جلائے گئے ہیں۔
  • حکام کا کہنا ہے کہ تازہ فسادات کے دوران اسّی افراد مارے گئے جبکہ ہزاروں روہنگیا مسلمان، جن کے پاس شہری حقوق نہیں ہیں، سمندر کے راستے نقل مکانی کرگئے ہیں اور ریاستی دارالحکومت ستوے کے نزدیک ایک جزیرے پر پھنسے ہوئے ہیں۔
  • انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے برما کے مغربی علاقوں میں نسلی فسادات میں ہونے والی تباہی کے تصویری ثبوت بھی پیش کیے ہیں۔
  • ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں کیاک پیو نامی ساحلی قصبے میں پینتیس ایکڑ کے علاقے کو جلا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس تازہ تشدد کے دوران آٹھ سو سے زائد مکانات اور ہاؤس بوٹس نذرِ آتش کی گئی ہیں۔
  • بی بی سی کے ایشیا کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے جو سیٹلائٹ تصاویر دی ہیں، اس سے مغربی برما میں ایک کمیونٹی کی زبردست بربادی کے پختہ ثبوت ملے ہیں۔
  • ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ایشیا فل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ ’برما کی حکومت کو راخائن کے علاقے میں حملوں اور تشدد کا سامنا کرنے والی روہنگیا آبادی کو فوراً تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔