آسٹریلیا کی دس ایجادات تصاویر میں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 23:05 GMT 04:05 PST
  • جان او سلیون کو آسٹریلیا میں بابائے وائی فائی کہا جاتا ہے۔ جان میلبورن کی کامن ویلتھ سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن میں علمِ فلکیات اور سپیس سائنس کے فیلو ہیں۔ ’میں نے ریڈیو ایسٹرانومی کے لیے کام کیا۔ یہ تجربہ ناکام رہا لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس تجربے کی ناکامی مجھے کہاں سے کہاں لے جائے گی۔‘

  • جہاز میں نصب ’بلیک باکس‘ آسٹریلیا کے ڈیو وارن نے ایجاد کیا۔ وارن نے بلیک باکس پر کام اس وقت شروع کیا جب 1934 میں ان کے والد ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ اگرچہ پہلا بلیک باکس برطانیہ میں بنایا گیا لیکن اس ایسے آلے کے بارے میں پہلی بار آسٹریلیا میں سوچا گیا۔

  • تاروں پر سوکھتے کپڑے تو سب ہی نے دیکھے ہوں گے اور کچھ نے وہ دھاتی درخت بھی دیکھا ہو گا جس پر کپڑے ڈال دیے جائیں اور وہ گھومتا رہتا ہے اور کپڑے جلد سوکھ جاتے ہیں۔ اس دھاتی درخت کی تخلیق 1926 میں گلبرٹ ٹوئن نامی ایک لوہار نے کی۔ لیکن اس دھاتی درخت کو گھر گھر پہنچانے والے جنوبی آسٹریلیا کے لانس ہل تھے۔ یہ ایک توانائی بچانے والی شاندار تخلیق ہے۔

  • قوت سماعت سے محروم لوگوں کو سڈنی کے ڈاکٹر گریم کلارک کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کی کوششوں کے باعث وہ سن سکتے ہیں۔ 1967 میں انہوں نے کان کے اس حصے پر تحقیق شروع کی جو سننے کا کام دیتا ہے۔ لیکن ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا کہ ایک بیس تاروں کو کس طرح ایک سوئی کے برابر موٹائی میں لائیں۔ 1985 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس آلے کی توثیق کی۔

  • آسٹریلیا میں پانی کی بچت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ انیس سو اسّی کی شروعات میں بروس تھامسن نے ایک ایسا فلش بنایا جس میں فلش کرنے کے لیے دو بٹن تھے۔ ایک بٹن پیشاپ کرنے کے بعد دبائیں کیونکہ اس میں سے پانی کم نکلتا ہے جبکہ دوسرا بٹن دبانے سے پانی زیادہ نکلتا ہے۔

  • قوتِ بینائی سے محروم لوگوں کے لیے بریلر لکھائی ہوتی ہے جو ابھری ہوئی ہوتی ہے اور یہ افراد اپنی انگلیوں سے محسوس کر کے اس لکھائی کو پڑھتے ہیں۔ پرکنز بریلر سب سے پہلی ایسی مشین تھی لیکن یہ بہت بھاری تھی۔ انگلینڈ کے ماؤنٹ بیٹن ٹرسٹ نے ایک مقابلہ کرایا اور اس مقابلے میں آسٹریلیا کی کمپنی کوائنٹم نے بیٹری سے چلنے والی بریلر مشین بنائی۔ اس مشین بنانے کے لیے اس کمپنی کے چند ارکان نے اپنی جائیداد گروی رکھوائی تھی۔

  • رابرٹ وتھنل نے گیلی فیلڈ سے پانی کو چوس کر نکالنے والی مشین ایجاد کی۔ گالف کھیلتے ہوئے کورس گیلا تھا اور رابرٹ کے دوستوں نے ان سے کہا کہ وہ ایک مشین بنائیں جو پانی چوس کر فیلڈ کھیلنے کے لائق بنائے۔ 1974 میں رابرٹ نے اس مشین پر کام شروع کردیا۔ کھیلوں کے تمام میدان ہی اس مشین سے مستفید ہوتے ہیں۔ بڑی مشین ایک گھنٹے میں ساڑھے چھبیس ہزار لیٹر پانی چوس کر فیلڈ سے باہر پھینک سکتی ہے۔

  • سڈنی کی کامن ویلتھ ایکوسٹک لیبارٹری نے والدین کو ایک بہت بڑا تحفہ دیا ہے یعنی الٹر ساؤنڈ مشین جس سے وہ ماں کے پیٹ میں بچے کی پہلی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیبارٹری سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں لیبارٹریز اس مشین پر کام کر رہی تھیں۔

  • اگرچہ کئی افراد دنیا کے مختلف ممالک میں ایسی سرنجز بنانے کے بارے میں سوچ رہے تھے جو ایک بار استعمال کر کے پھینک دی جائیں۔ لیکن اس سرنج کی ایجاد کا سہرا جنوبی آسٹریلیا کھلونے بنانے والے چارلس روتھسر کو جاتا ہے۔ انہوں نے اے ایم بکفرڈ اینڈ سنز نامی کمپنی کے لیے سستی سرنجز بنائیں جو ایک بار استعمال کے بعد پھینک دی جائیں۔

  • انیس سو ساٹھ کی دہائی میں آسٹریلیا کے ریزرو بینک نے حکومتی سائنسدانوں سے کہا کہ وہ ایک ایسا نوٹ تیار کریں جس کی نقل نہ جا سکے۔ یہ نوٹ پہلی بار 1988 میں جاری کیے گئے جو کہ پانی سے خراب بھی نہیں ہوتے تھے۔ اور آج تک کوئی بھی جعلی آسٹریلوی نوٹ تیار نہیں کرسکا ہے۔ آسٹریلیا کئی دیگر ممالک کے لیے بھی پولیمر نوٹس تیار کرتا ہے جن میں بنگلہ دیش، چلی، کویت، نیوزی لینڈ، رومانیا اور ویتنام ہیں۔

آسٹریلیا کو کھیلوں کے حوالے سے ہی جانا جاتا ہے اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے کم ہی۔ لیکن دس ایجادات ایسی ہیں جو آسٹریلیا کی ہیں۔ کئی ایجادات میں دوسرے ممالک کے دعووں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے ساتھ آسٹریلیا کا جو حق ہے وہ اس کو ملنا ہی چاہیے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔