بنگلہ دیش کے تیرتے سکول

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 04:52 GMT 09:52 PST
  • قطر میں تعلیم کے بارے میں ہونے والے ورلڈ انوویشن اجلاس میں بنگلہ دیش کے تیرتے سکولوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش میں ان تیرتے سکولوں کے پراجیکٹ کو شمسی توانائی سے چلایا جاتا ہے۔
  • تیرتے سکولوں کا یہ پراجیکٹ شدولئی سوانرور سنگستھا کی جانب سے شروع کیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ کا مقصد بچوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیم دینا ہے خاص طور پر مون سون کے دوران۔
  • بنگلہ دیش کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور جگہ تنگ پڑتی جا رہی ہے۔ نشیبی علاقوں میں سیلاب کا ڈر ہوتا ہے جس کے باعث زیادہ تر لوگ وہاں رہائش اختیار نہیں کرتے۔
  • اس پراجیکٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد رضوان ناتور ضلعے کے رہنے والے ہیں۔ ’میں دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو جانتا ہوں جن کو معلومات تک رسائی نہیں ہے۔ مون سون میں سڑکیں زیرِ آب آ جاتی ہیں اور طلبہ کا سکول جانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
  • آرکیٹیکچر اور تعمیرات میں کام کرنے والے محمد رضوان نے اس ضلعے کے بچوں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے سکول بنانے کا چیلنج قبول کیا: ’اس ضلعے میں بہت سے بچے سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ میرے لیے اس صورتحال کو قبول کرنا مشکل تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر مشکل حالات کے باعث بچے سکول تک نہیں پہنچ پاتے تو سکول خود کشتی پر سوار ہو کر بچوں تک پہنچ جائے۔‘
  • یہ کشتیاں بچوں کو مختلف علاقوں سے اٹھاتی ہیں۔ ہر کشتی میں تیس بچوں کی گنجائش ہوتی ہے اور اس وقت بیس تیرتے ہوئے سکول یعنی کشتیوں پر بنے سکول کام کر رہے ہیں۔ ان سکولوں میں 1657 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
  • ان تیرتے سکولوں میں انٹرنیٹ سمیت لیپ ٹاپ بھی موجود ہیں جبکہ بہت عمدہ لائبریریاں بھی موجود ہیں۔
  • ان سکولوں میں پرائمری تعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے تربیتی کورسز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان کورسز میں پائیدار زراعت، عورتوں کے حقوق وغیرہ شامل ہیں۔
  • شمسی توانائی سے چلنی والی لالٹینیں بھی طلبہ کو دی جاتی ہیں تاکہ وہ رات کو پڑھ سکیں۔
  • فی الحال اس پراجیکٹ کے لیے رقم مقامی اور بین الاقوامی امداد کے ذریعے جمع کی جاتی ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔