فری ٹاؤن کی کچی آبادی اور وباء

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 07:26 GMT 12:26 PST
  • بارشوں کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد سیرا لیون میں ہیضے کی وباء میں کمی ہو رہی ہے۔ اس وباء نے دارالحکومت فری ٹاؤن میں کچی آبادیوں کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ یہ کچی آبادیاں ہیضے کی وباء سے سب سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
  • فری ٹاؤن میں کرو بے کی کچی آبادی بہت پھیل گئی ہے اور خانہ جنگی کے دوران دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں پر آئے۔ اس کچی آبادی کے پاس ہی ایک بہت بڑے علاقے میں کوڑے کا ڈھیر ہے۔
  • کچی آبادی میں چند ہی صاف ستھرے غسل خانے موجود ہیں۔ آبادی کے زیادہ تر رہائشی آبادی کے بیچ میں سے گزرنے والی ندی ہی میں پیشاب وغیرہ کر دیتے ہیں۔
  • ہر سال بارشوں کے باعث ندی کا پانی آس پاس کے علاقوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سیلاب کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ فری ٹاؤن کے مئیر علیماما کمارا کا کہنا ہے ’ندی کے پشتوں پر دیوار تعمیر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا پانی کچی آبادی میں داخل نہ ہو۔‘
  • جانور اس علاقے میں بغیر کسی روک ٹوک کے خوراک کی تلاش میں پھرتے ہیں۔ اور اس کے کچھ ہی فاصلے پر بچے پانی میں کھیل رہے ہوتے ہیں جبکہ اس ندی کے کنارے پر لوگ بیٹھے پیشاپ وغیرہ کر رہے ہوتے ہیں۔
  • اگرچہ کرو بے میں پانی کے لیے کنویں بنائے گئے ہیں لیکن یہ کنویں بھی آلودگی سے پاک نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے اندازے کے مطابق سیرا لیون کے 42 فیصد رہائشیوں کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
  • ان حالات میں ہیضہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ اگر بروقت علاج کیا جائے تو موت واقع نہیں ہوتی لیکن ملک میں طبی سہولیات تک لوگوں کی رسائی آسان نہیں ہے اور اسی لیے سیرا لیون میں ہیضے سے اموات کی شرح کافی بلند ہے۔
  • رواس سال ہیضے سے ملک میں 280 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • حکومت نے امدادی تنظیموں کے ساتھ ہیضے پر قابو پانے کی بہت کوششیں کی ہیں لیکن جب تک صفائی کے حوالے سے اقدامات نہیں کیے جاتے اس وقت تک ہیضے پر قابو پانا مشکل ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔