قوم پرست ہندو جماعت شیو سینا کے بال ٹھاکرے: تصاویر

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 12:57 GMT 17:57 PST
  • بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کی سخت گیر قوم پرست ہندو جماعت شیو سینا کے بانی بال ٹھاکرے ممبئی میں انتقال کر گئے ہیں
  • چھیاسی سالہ بال ٹھاکرے گزشتہ کئی دن سے شدید علیل تھے اور ان کا علاج ان کی رہائش گاہ ’ماتو شری‘پر ہی ہو رہا تھا۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مستقل ان کی صحت کی نگرانی کر رہی تھی
  • 1926 میں پیدا ہونے والے بال ٹھاکرے نے کیریئر کا آغاز ایک پیشہ ور کارٹونسٹ کے طور پر کیا لیکن بعد میں وہ سیاست کے میدان میں داخل ہوگئے تھے
  • انہوں نے مراٹھی بولنے والے مقامی لوگوں کو ملازمتوں میں ترجیح دیے جانے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی۔ انیس سو اسّی کی دہائی کے دوران شیوسینا ایک بڑی سیاسی قوت بن گئی تھی۔
  • یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بال ٹھاکرے نے کبھی نہ تو کوئی انتخاب لڑا اور نہ ہی کوئی سیاسی عہدہ قبول کیا لیکن وہ مہاراشٹر کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے
  • بال ٹھاکرے نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے اودھو ٹھاکرے کو اپنا جانشین بنا دیا تھا اور اس پر ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے شیو سینا سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی علیحدہ جماعت بنا لی تھی
  • ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بال ٹھاکرے کی رہائش گاہ کے باہر دو دن سے موجود شیو سینکوں کی بھیڑ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ممبئی میں مسلمانوں نے بھی بال ٹھاکرے کی صحتیابی کے لیے دعا کی
  • اس سے پہلے بال ٹھاکرے کی عیادت کرنے والوں میں سیاسی رہنماؤں کے علاوہ بالی ووڈ سٹاز بھی شامل تھے
  • بال ٹھاکرے کے شدید علیل ہونے کی خبر کے ساتھ ہی ان کے چاہنے والے ماتوشري پہنچنا شروع ہو گئے
  • مہاراشٹر کی حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے آس پاس بھاری تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گيا ہے

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔