سال کی بہترین خلائی تصاویر

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 دسمبر 2012 ,‭ 07:23 GMT 12:23 PST
  • ناسا کی اس تصویر میں سپرنووا W44 دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر کو یورپین خلائی ادارے کی ہرشل اور XMM نیوٹن خلائی رصد گاہوں کا دیٹا اکٹھا کر کے بنایا گیا ہے۔ W44 وہ بنفشی دائروی شکل ہے جو اس تصویر کے بائیں طرف نظر آ رہی ہے۔ اس کی چوڑائی ایک سو نوری سال ہے۔
  • ناسا کی ایک تصویر سے سورج کی اندرونی فضا نظر آ رہی ہے۔ یہ تصویر سوہو رصد گاہ نے لی تھی اور اسے نومبر 2012 کو نشر کیا گیا تھا۔ تصویر کے اوپری داہنے حصے میں سورج کا مادہ فضا سے باہر جا رہا ہے۔
  • ناسا کی اس تصویر میں زحل کا چاند ٹیتھس نظر آ رہا ہے۔ اسے کیسینی خلائی جہاز نے 19 اگست 2012 کو لیا تھا۔ تصویر میں زحل کے حلقے چاند سے بڑے نظر آ رہے ہیں لیکن سائنس دانوں کا خیال ہے کہ چاند کا وزن حلقوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ تصویر زحل سے 24 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے لی گئی تھی۔
  • مصنوعی سیارے سے لی گئی تصویر میں شمال، وسطی اور جنوبی امریکہ کی بتیاں نظر آ رہی ہیں۔
  • کیسینی سے لی گئی ایک اور تصویر میں زحل کا مشہور شمالی قطبی شش پہلو حصہ نظر آ رہا ہے۔ اس وقت کیمرا زحل سے 361,488 کلومیٹر دور تھا۔
  • مصنوعی سیارے سے لی گئی ناسا کی اس تصویر میں رات کے وقت امریکہ کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ یہ تصویر ایک ایسے کیمرے سے لی گئی تھی جس میں سبز سے زیریں سرخ ویو لینتھ کے فلٹر استعمال کیے گئے تاکہ شہروں کی مدھم روشنیاں، گیس کے شعلے، قطبی روشنیاں، جنگل کی آگ، اور چاند کی منعکس شدہ روشنیاں نظر آ سکیں۔
  • ناسا کی اس تصویر میں کینیڈا کے صوبے یوکان کے اوپر قطبی روشنی (aurora) کے سبز اور سرخ مرغولے نظر آ رہے ہیں۔ یہ قطبی روشنیاں سورج سے خارج کردہ ذرات اور زمین کے مقناطیسی نظام کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہیں۔
  • 29 نومبر 2012 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستان اور ایران کی سرحد پر گرد کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بعد میں یہ گردباد بحیرۂ عرب کی طرف چلے گئے۔
  • امریکہ میں آنے والے سینڈی طوفان کی مصنوعی سیارے سے لی گئی تصویر۔
  • کینیڈا کے اوپر مصنوعی سیارے سے لی گئی قطبی روشینوں کی تصویر۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔