سردیاں اور شامی پناہ گزینوں کی مشکلات

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 07:27 GMT 12:27 PST
  • بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی خیراتی ادارے ’سیو دی چلڈرن‘ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی امداد میں کمی کی وجہ سے شامی مہاجرین کی مدد میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
  • اس وقت چار لاکھ سے زائد شامی مہاجرین جن میں نصف بچے ہیں اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ درج ہیں جو مختلف ہمسایہ ممالک میں رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تعداد سات لاک تک پہنچ سکتی ہے جبکہ پچیس لاکھ سے زائد افراد شام کے اندر ہی نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
  • احمد خودر کے پانچ بچے ہیں جن کے خاندان کو اس وقت شمال لبنان میں پناہ کے لیے آنا پڑا جب ان کے شہر میں لڑائی شروع ہوئی۔ وہ اور ان کے خاندان کے آٹھ اور افراد نے ایک سال سے زائد عرصہ بھیڑوں کے ایک پرانے باڑے میں گزارا ہے۔
  • خودر کے خاندان جس میں اس کے بہن بھی شامل ہیں نے پندرہ دن لگا کر اس باڑے کو صاف کر کے رہائش کے قابل بنایا۔ اب بھی وہ آگ جلا کر سردی سے بچتے ہیں۔ احمد کا کہنا ہے کہ ’جب ہم یہاں آئے تو اس جگہ کا کوئی دروازہ نہیں تھا اور میرے بچے سردی میں میری گود میں بیٹھ کر بچا کرتے تھے۔‘
  • ’سیو دی چلڈرن‘ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس وقت گرم کپڑوں، کمبلوں اور رہائش کے لیے جگہ کی شدید قلت ہے۔ احمد نے بتایا ’ہم جب آئے تو سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے اور تین دن تک ہم سڑکوں پر پھرتے رہے، رات کو سفر کرتے تھے اور دن کو چھپ جایا کرتے تھے حتیٰ کہ ہم یہاں پہنچے جہاں ہم اب ہیں۔‘
  • برف اور صفر سے نیچے کے درجہ حرارت میں حالات اور مخدوش ہو جائیں گے اور آنے والے دن بھی سخت ہوں گے۔ احمد کا کہنا ہے کہ ’حالت بہت خراب ہے اور اب بارشیں بھی ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں پانی اندر آجاتا ہے جسے ہم اکٹھا کر کے استعمال کرنے کے لیے رکھ لیتے ہیں کیونکہ اسے ہم پی نہیں سکتے۔ پینے کے لیے پانی ہم دریا سے لاتے ہیں۔‘
  • اقوام متحدہ نے ان مہاجرین کی امداد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا ہے مگر اب تک اس کے لیے وعدہ کی گئی رقم کا صرف نصف ادا کیا گیا ہے۔
  • ’سیو دی چلڈرن‘ تنظیم کی جیسمین وِٹ بریڈ نے کہا کہ عالمی برادری کو اپنے سفارتی، سکیورٹی اور سیاسی خدشات کے برابر پیسہ دینے کی ضرورت ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔