کوئٹہ میں احتجاج جاری، تصاویر میں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 13 جنوری 2013 ,‭ 17:16 GMT 22:16 PST

ہزارہ برادری کا احتجاج، تصاویر میں

  • کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سمیت ہزاروں افراد کا علمدار روڈ پراحتجاجی دھرنا اتوار کو بھی جاری رہا اور لوگوں نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔
  • مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک ہلاک شدگان کی تدفین سے انکار کیا ہے اور وہ لاشوں سمیت جمعہ کی دوپہر سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
  • متاثرین کے لواحقین تابوتوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور دھرنے کے ساتھ ساتھ گریہ و زاری بھی کر رہے ہیں۔
  • سانحۂ کوئٹہ کے خلاف ہڑتال بھی کی گئی اور اتوار کو کوئٹہ کے تمام تجارتی مراکز بند رہے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی احتجاجی دھرنے دیے گئے جو جاری ہیں۔
  • کوئٹہ میں دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی تھی اس کے خلاف مظاہروں میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔
  • مظاہرین بلوچستان کی موجودہ حکومت کے خاتمے، کوئٹہ شہر کی سکیورٹی کا انتظام فوج کے حوالے کرنے اور حملہ آوروں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے مطالبات کر رہے ہیں۔
  • ہزارہ برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان کے متعدد شہروں میں بھی سنیچر کو ریلیاں نکالی گئی اور دھرنے دیےگئے۔
  • علمدار روڈ پر دھرنے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد شامل ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اس وقت وہ لواحقین کی لاشیں نہیں دفنائیں گے۔
  • پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہزارہ برادری کی حمایت میں بیان سامنے آئے ہیں اور انصاف پارٹی کے رہنما عمران خان نے بھی ایسی ہی ایک ریلی میں شریک ہوئے۔
  • کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے شعیوں پر حملوں کے خلاف لوگوں میں زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر ان کا قصور کیا ہے جو انہیں قتل کیا جارہا ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔