’نہ وکیل، نہ گواہ اور نہ ثبوت‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 17:17 GMT 22:17 PST

میڈیا پلئیر

حکومت نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے افراد میں سے پاڑہ چنار میں خفیہ اداروں کے حراستی مرکز میں قید سات افراد پر قبائلی علاقوں کے قانونی نظام ایف سی آر کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

حکومت نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے افراد میں سے پاڑہ چنار میں خفیہ اداروں کے حراستی مرکز میں قید سات افراد پر قبائلی علاقوں کے قانونی نظام ایف سی آر کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور آئینی ماہر ایڈووکیٹ لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ ایف سی آر کے تحت مقدمے میں نہ تو گواہ پیش ہوتے ہیں اور نہ ہی ثبوت

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔