’پھانسی دینے لائق شواہد نہیں تھے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 09:37 GMT 14:37 PST

میڈیا پلئیر

بھارتی سپریم کورٹ کی سرکردہ وکیل کامنی جیسوال کا کہنا ہے کہ افضل گورو کے خلاف ایسے شواہد نہیں تھے کہ انہیں پھانسی دی جاتی۔

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل گورو کو سنیچر کی صبح پھانسی دے دی گئی ہے۔ بیشتر سیاسی جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے وہیں انسانی حقوق کے کارکنان اور بعض سینئر وکلا کا کہنا ہے کہ حکومت نے سیاسی مفاد کے لیے افضل گورو کو پھانسی پر لٹکا دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی سینئر وکیل کامنی جیسوال بھی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرنے والوں میں شامل ہیں۔

ہمارے نامہ نگار سہیل حلیم نے کامنی جیسوال سے بات چیت کی اور پوچھا کہ انہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ اس معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے ہیں۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔