پاکستانی لڑکیاں، بلندی کی تلاش

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 مارچ 2013 ,‭ 12:54 GMT 17:54 PST
  • پاکستان میں پیشہ وارانہ کوہ پیمائی عموماً گنے چُنے مردوں کا خاصا سمجھی جاتی ہے لیکن اِس روایت کو توڑنے کا خواب لیے، شمالی خطے گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑوں کی چند نو عمر لڑکیاں میدانی علاقوں کی طرف نکلی ہیں۔
  • جنوب کے سمندر یا شمال کی چوٹیوں کے قریب پرورش پانے والی اِن لڑکیوں کی ذاتی زندگیاں بالکل متضاد ہیں لیکن اب جب وہ ایک ساتھ ہیں تو اُنہوں دنیا کے بلند ترین مقام پر کمند ڈالنے کی ٹھان رکھی ہے۔
  • کراچی کی شہربانو سید کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے سیاحتی دوروں کے دوران پہاڑوں سے الفت ہوئی۔ جنوری دو ہزار بارہ میں اُنہوں نے بالائی ہُنزہ کے گاؤں شمشال کی لڑکیوں کے بارے میں سنا جنہوں نے موسمِ سرما میں چھ ہزار میٹر (تقریباً بیس ہزار فُٹ) اونچی مقامی چوٹی سر کی تھی۔
  • اِس کارنامے سے متاثر ہو کر شہربانو، کوہ پیما لڑکیوں کے بارے میں دستاویزی فلم بنانے شمشال گئیں جہاں اُن کی ملاقات کوہ پیمائی کی مقامی اکیڈمی میں زیرِ تربیت ندیمہ سحر، تخت بیکا، شکیلا نما اور مہرا جبیں سمیت آٹھ مقامی لڑکیوں سے ہوئی۔
  • ذاتی وسائل سے نو لڑکیوں کے اِس گروہ نے ستمبر اور اکتوبر کے وسطی ہفتے میں چھ ہزار میٹر کی تین چوٹیاں سر کر ڈالیں۔
  • ندیمہ سحر قراقرم یونیورسٹی میں بی اے کی طالبہ ہیں جبکہ اُن کی ساتھیوں میں سے کسی نے پرائمری تو کسی نے مڈل تک تعلیم حاصل کی ہے۔ سب سے زیادہ مرتبہ چھ ہزار میٹر بلند پہاڑ سر کرنے والی مہرا جبیں ان پڑھ ہیں۔ کچھ حد تک اردو سمجھتی ہیں لیکن اپنے کارنامے سنانے کے لیے اُنہیں مادری زبان واخی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
  • کوہ پیمائی کے تجربے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’بھائی کو دیکھ کر کوہ پیمائی کا شوق پیدا ہوا۔ پہلی مرتبہ اُس کے ساتھ گئی تھی۔‘
  • گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں کی معیشت کا دارومدار سیاحت پر ہے۔ مقامی مرد، دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی رہنمائی کرکے یا کوہ پیماؤں کی معاونت کے ذریعے روزگار کماتے ہیں۔
  • ایسا نہیں کہ خواتین کو یہ ہُنر سیکھنے کا موقع نہیں ملتا بلکہ بقول ندیمہ کے ’ہمارے یہاں لڑکوں اور لڑکیوں کو برابر قرار دیا جاتا ہے البتہ روایتی امورِ خانہ داری اور محدود وسائل کے باعث خواتین پیشہ ورانہ مقام تک نہیں پہنچ پاتیں۔‘
  • تخت بیکا کی بڑی بہن کو شادی کے بعد کوہ پیمائی کا شوق ترک کرنا پڑا۔ اُنہوں نے بتایا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے یا برف توڑ کر پینے کے لیے پانی جمع کرنے جیسے معمولاتِ زندگی ہی مقامی خواتین کی صلاحیتوں کو نچوڑ لیتے ہیں۔
  • دو ہزار تین میں سڑک بننے کے بعد، شمشال گاؤں کے نزدیک ترین شہر ہُنزہ تک، تین دنوں کا پیدل سفر، چھ گھنٹوں کی مسافت میں سِمٹ گیا لیکن اُس کے لیے بھی کار کی بجائے طاقتور جیپ کی ضرورت پڑتی ہے۔
  • دور دراز کی کٹھن زندگی کی بنیادی کوہ پیمائی میں عبور حاصل کرنے کے بعد اِن لڑکیوں کی خواہش ہے کہ وہ بھی سیاحتی رہنماء (ٹؤر گائیڈ) اور بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی معاونت جیسے مقامی پیشوں کے ذریعے اپنے پیروں پر کھڑی ہوں۔
  • شمشال ماؤنٹینئرنگ اکیڈمی کی رکن شکیلہ نماء کے مطابق ’پاکستان کی کوئی بھی خاتون، ہم سے تربیت حاصل کرکے کوہ پیما بن سکتی ہے‘۔
  • چھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں پر چڑھنا اترنا شمشال گاؤں کی لڑکیوں کا معمول بن گیا ہے مگر جب اُنہوں نے ایک ہزار میٹر مزید اوپر جانے کا ارادہ کیا تو وسائل آڑے آ گئے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔