اوگو چاویس: فوجی سے صدر تک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 مارچ 2013 ,‭ 22:48 GMT 03:48 PST
  • اوگو چاویس لاطینی ممالک کے سب سے زیادہ صاف گو رہنما تھے۔ وہ وینیزویلا کی فوج کے سابق پیراٹروپر تھے۔ وہ 1992 میں ناکام بغاوت کے بعد مشہور ہوئے۔
  • چاویس نے اس وقت کے صدر کارلوس پریز کی جانب سے معاشی اقدامات کے خلاف ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے دو سال جیل میں کاٹے جس کے بعد ان کو معافی دے دی گئی۔ انہوں نے رہائی کے بعد اپنی جماعت کو ازسرِنو تشکیل کیا اور اس طرح وہ فوجی سے سیاسی رہنما بنے۔
  • سنہ 1998 میں انہوں نے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
  • جب چاویس نے صدر کا عہدہ سنبھالا اس وقت پرانا نظام بدحالی کا شکار تھا۔ انہوں نے عوام سے انقلاب کا وعدہ کیا۔
  • صدر چاویس کا ٹکراؤ چرچ کے رہنماؤں سے ہوا۔ وہ چرچ کے رہنماؤں پر الزام عائد کرتے تھے کہ وہ غریب افرب کو نظر انداز کرتے ہیں اور امراء کی حمایت کرتے ہیں۔
  • گیارہ ستمبر 2011 کے بعد وینزویلا کے تعلقات امریکہ کے ساتھ اس وقت بے حد خراب ہو گئے جب انہوں نے بش انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ ’دہشت گردی کو دہشت کا سامنا گردی سے کر رہی ہے‘۔ انہوں نے امریکہ پر سنہ 2002 کی بغاوت کا بھی الزام لگایا جس کے باعث وہ کچھ عرصے کے لیے صدر کے عہدے سے ہٹا دیے گئے تھے۔
  • سنہ 2002 کی بغاوت کے دو سال بعد ایک ریفرنڈم میں وہ کہیں زیادہ حمایت کے ساتھ دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔
  • صدر چاویس کی حکومت نے تعلیم اور طبی سہولیات کے حوالے سے کئی پروگرام شروع کیے۔ تیل کی پیداوار کے باوجود مفلسی اور بے روزگاری اب بھی ملک میں بہت زیادہ ہے۔
  • سنہ 2006 میں چاویس دوبارہ صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے 63 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
  • تاہم 2007 میں وہ ریفرنڈم ہار گئے جس میں انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ صدر کے عہدے کے لیے انتخابات لڑنے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ سپین کے بادشاہ نے ابیرو امریکن اجلاس کے اختتام پر چاویس کو ’شٹ اپ‘ کہا کیونکہ چاویس نے سپین کے سابق وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
  • سنہ 2009 میں ایک اور ریفرنڈم ہوا جس میں کتنی بار صدر بنا جا سکتا ہے کی حد ختم کردی گئی۔
  • جون 2011 میں صدر چاویس نے عوام کو بتایا کہ ان کو سرطان کا مرض ہے اور ان کا علاج ہو رہا ہے۔ وہ کئی بار علاج کے لیے کیوبا گئے۔
  • اگست 2012 میں وینزویلا کی سب سے بڑی ریفائنری میں دھماکہ ہوا جس میں 42 افراد ہلاک ہوئے۔ صدر چاویس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ حکومت کے ناقدین نے الزام لگایا کہ ریفائنری نے دیکھ بھال نہیں کی گئی کیونکہ تیل سے ملنے والی رقم چاویس کے سماجی پروگراموں پر خرچ کی جاتی ہے۔
  • اکتوبر 2012 میں صدر چاویس دوبارہ صدارتی انتخابات جیت گئے۔
  • سرطان کے مرض کے وہ پچھلے اٹھارہ ماہ سے بیمار تھے۔ دسمبر 2012 میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ صحت کی خرابی کے باعث وہ صدارتی عہدے پر لمبے عرصے کے لیے فائز نہیں رہ سکیں گے۔
  • صدر چاویس فروری میں علاج کے بعد واپس ملک پہنچے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔