اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بدھ دس اپریل کا سیربین، حصۂ اول

پاکستان ميں انتخابات ہونے ميں اب ايک ہي ماہ باقي ہے ليکن بلوچستان ميں ابھي تک يہ واضح نہيں کہ يہاں انتخابات پرامن طريقے سے ہو پائيں گے يا نہيں۔ اسي تناظر ميں نگراں وزير اعظم مير ہزار کھوسو بدھ کوئٹہ پہنچے ہيں۔ انہوں نے گورنر اور نگراں وزير اعليٰ کے ساتھ بات چيت کے بعد کہا ہے کہ اليکشن ميں قوم پرست جماعتوں کي بھرپور شرکت ہي صوبے کے حالات ميں بہتري لا سکتي ہے۔

بلوچستان ميں، خاص طور پر دارالحکومت کوئٹہ ميں، صورتحال اتني خراب ہوئي کيسے؟ کوئٹہ جو کبھي ايک تفريحي مقام تھا، ايک فوجي چھاؤني بھلا کيسے بن گيا؟ يہي جاننے کي کوشش کي نامہ نگار ریاض سہیل نے

کوئٹہ شہر جہاں شام ڈھلے بانسري کي لے سنائي ديتي تھي، انسان کھو کھو سا جاتا تھا، وہي کوئٹہ اب فوجي بوٹوں سے دھمک رہا ہے۔

اسي حوالے سے گفتگو کے لیے کوئٹہ سے سينئير صحافي اور تجزيہ کار انور ساجِدي پروگرام میں شامل تھے۔

اس کے بعد دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء