بدھ دس اپریل کا سیربین

بدھ دس اپریل کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔

کوئٹہ جو اب ایک چھاؤنی بن گیا ہے

پاکستان ميں عام انتخابات منعقد ہونے میں اب ايک ہی ماہ باقی ہے ليکن صوبہ بلوچستان ميں ابھي تک يہ واضح نہیں کہ يہاں انتخابات پرامن طريقے سے ہو پائیں گے يا نہیں۔ اسي تناظر ميں نگراں وزير اعظم مير ہزار کھوسو بدھ کو کوئٹہ پہنچے ہیں۔ جہاں انہوں نے گورنر اور نگراں وزير اعلیٰ کے ساتھ بات چيت کے بعد کہا ہے کہ اليکشن میں قوم پرست جماعتوں کي بھرپور شرکت ہي صوبے کے حالات ميں بہتري لا سکتي ہے۔

بلوچستان ميں، خاص طور پر دارالحکومت کوئٹہ میں، صورتحال اتني خراب ہوئی کيسے؟ کوئٹہ جو کبھي ايک تفريحي مقام تھا، ايک فوجي چھاؤني بھلا کيسے بن گيا؟ يہي جاننے کي کوشش کي نامہ نگار ریاض سہیل نے۔

اسي حوالے سے گفتگو کے لیے کوئٹہ سے سينیئر صحافي اور تجزيہ کار انور ساجِدي پروگرام میں شامل تھے۔

اس کے بعد دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء

عالمی خبریں اور ایک نیا ڈرامہ ’تان‘

اس حصے میں پہلے شامل کی گئیں عالمی خبریں۔

فنکار اپنی تخلیق سے حالات پر اپنے خيالات کا اظہار انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ لاہور میں ایک ایسے ڈرامے کی عکسبندی جاری ہے جس میں نئی اور پرانی موسیقی کے قضيے کو بنیاد بنا کر پاکستان میں عدم برداشت اور مختلف گروہوں کے درمیان بڑھتی خلیج کی نشاندہی کی گئی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کی رپورٹ

کراچی کے نو گو علاقے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچي ميں نو گو ايرياز کو ختم کرنے کے ليے سپريم کورٹ کي جانب سے حکام کو دي گئي بدھ یعنی دس اپریل کی ڈيڈ لائن کو بڑھا کر اب سولہ اپريل کر ديا گيا ہے۔ کراچي کا علاقہ لياري بھي ايک نو گو ايريا ہے۔ يہ علاقہ ايک عرصے گينگ وار کي زد ميں رہا ہے اور يہاں اب بھي پوليس کا کنٹرول نا ہونے کے برابر ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار سبين آغا کی کراچي کے اس نو گو ايريا سے خصوصی رپورٹ۔

اسي مسئلہ پر بات کرنے کے لیے بی بی سی کے لندن سٹوڈیو میں موجود تھیں لندن سکول آف اکنامکس اينڈ پولیٹکل سائنس کی پروفیسر ثوبیہ کاکڑ اور کراچی سٹوڈیو میں موجود تھے بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی۔

سب سے آخر میں دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔

کلک

اس کے بعد شامل ہے ہفتہ وار سلسلہ ’کلک‘۔

دنيا کے موجودہ مشکل اقتصادي حالات ميں لوگ اپني چھٹیاں گزارنے کے لیے کم سے کم پيسے خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ اور آجکل جو خرچ کرتے بھي ہیں وہ سياحت کے مشہور مقامات سے ہٹ کر انٹرنیٹ پر سير و تفريح کي کچھ مختلف جگہیں ڈھونڈتے ہیں۔ ليکن کيسے؟ ديکھيے ہمارے ہفتہ وار سلسلے ’کلک‘ ميں نوشين عباس کے ساتھ۔

اسی بارے میں