جمعہ بارہ اپریل کا سیربین

جمعہ بارہ اپریل کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔

انتخابات بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی شرکت

پاکستان ميں آنے والے انتخابات ميں سکيورٹي کا مسئلہ ويسے تو ملک بھر کے ليے ايک بہت بڑا چيلنج ہے ليکن بلوچستان ايک ايسا صوبہ ہے جہاں سکيورٹي ايک فيصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتي ہے۔

اس دفعہ اب تک تو يہي لگ رہا ہے کہ بلوچستان میں وفاقی اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ قوم پرست جماعتیں بھی انتخابات کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔ کيا آنے والے انتخابات بلوچوں کے غم، غصے اور ناراضگي کا مداوا کر سکيں گے؟

کوئٹہ سے ریاض سہیل کی رپورٹ۔ اس رپورٹ میں سردار اختر مینگل کا خصوصی انٹرویو بھی شامل ہے۔

اسي حوالے سے گفتگو کے لیے لاہور سے روزنامہ ڈيلي ٹائمز کے ايڈيٹر راشد رحمٰن پروگرام میں شامل تھے۔

اس کے بعد دیکھیے گا سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔

بھارت میں پھانسی کی سزا پر بحث اور دیگر خبریں

اس حصے میں پہلے شامل کی گئی دلی سے سہیل حلیم کی رپورٹ جنہوں نے بھارت میں جاری سزائے موت کے قانون پر بحث کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جہاں بھارتي سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رحم کی درخواست پر صدرِ جمہوریہ کی جانب سے فیصلہ کرنے میں تاخیر کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

اس کے علاوہ سابق برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر کی آخری رسومات کے حوالے سے ایک رپورٹ عارف شمیم کی زبانی۔

اس کے بعد کراچی سے نامہ نگار سبین آغا کی پاکستان کی بحریہ کو درپيش ممکنہ خطرات کے بارے ميں رپورٹ بھی اسی حصے میں شامل ہے۔

انتخابات میں سوشل میڈیا کا کردار

دو ہزار تیرہ کے انتخابات کئی اعتبار سے تاریخ ساز ہیں۔ مثلاً ایک وجہ یہ بھی کہ پہلی بار سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ لیکن جب پاکستان کی آبادی کے صرف تیرہ فیصد لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی ہے، تو ایسی مہم کا کیا فائدہ؟

اسی حوالے سے شامل ہے نامہ نگار عنبر شمسی کی رپورٹ۔

سوشل میڈیا کے کردار پر مزيد بات کرنے کے ليے اسلام آباد سٹوڈیو سے براہ راست پروگرام میں شریک تھے ميڈيا کنسلٹنٹ حسن بلال زيدي جو خود بھي سوشل ميڈيا کے استعمال ميں آگے آگے ہيں۔

سب سے آخر میں شامل ہیں سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔

’تو پھر چلیں‘

ہر جمعے کو شامل ہوتا ہے وسعت اللہ خان کے ساتھ ہفتہ وار سلسہ ’تو پھر چلیں‘۔

وسعت اللہ خان کا سندھ کا سفر ابھي جاري ہے۔ اس بار ان کا پڑاؤ ہوا صوبے کي مشہور جھيل منچھر کے کنارے۔ نہ صرف يہ کہ صديوں پراني اس جھيل نے کيا کيا دکھ جھيلے اور اس کي جھولي سے کس کس کو روزگار ملا بلکہ يہ بھي کہ اب يہ جھيل کن حالوں ميں ہے۔

يہ سب ديکھيے وسعت اللہ خان کے ہي ساتھ۔۔۔ تو پھر چليں؟

اسی بارے میں