اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بدھ چوبیس اپریل کا سیربین، حصۂ سوم

پاکستان اور افغانستان دو قريبي ہمسايہ ممالک ہيں۔ ليکن دونوں ملکوں کے تعلقات ميں تلخي اور کشيدگي کي ايک طويل تاريخ ہے۔ دنوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کے ليے اس ہفتے برسلز ميں امريکي وزير خارجہ جان کيري کي سربراہي ميں افغانستان کے صدر حامد کرزائي اور پاکستان کے سيکريٹري خارجہ جليل عباس جيلاني اور پاکستان فوج کے سربراہ اشفاق پرويز کياني کے درميان اہم ملاقات ہو رہي ہے۔

برطانوي دور ميں دونوں ملکوں کے درميان کھينچي جانے والي ڈورنڈ لائن ہي صرف اس کشيدگي کا باعث نہيں بلکہ يہ تلخي باہمي تجارت اور عوامي سطح تک محسوس کي جا سکتي ہے۔ دونوں ملکوں ميں پائي جانے والي تلخي اور غلط فہيوں کي نوعيت پر نظر ڈالي ہے کابل ميں موجود بي بي سي پشتو سروس کے نامہ نگار سيعد انور نے اپني اس رپورٹ ميں۔

برسلز میں امریکہ کی سربراہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس میں ہونے والے پیش رفت کو اس کے نتائج پر پرکھا جائے گا۔ ان مذاکرات میں افغانستان کے صدر حامد کرزائی اور پاکستان کی طرف سے سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔

ان مذاکرات کا تجزيہ کرنے کے ليے پروگرام میں اسلام آباد سے براہ راست موجود تھیں سابق پاکستانی سفیر ڈاکٹر مليحہ لودھي۔

سب سے آخر میں دیکھیے آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔