اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پیر انتیس اپریل کا سیربین، حصۂ دوم

پاکستان ميں انتخابات قريب آتے جا رہے ہيں اور ساتھ ہي کچھ مخصوص سياسي جماعتوں پر شدت پسندوں کے حملوں ميں بھي اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابي دفاتر پر بم دھماکے کيے جا رہے ہيں جن کے نتيجے ميں اب تک درجنوں سياسي کارکن ہلاک ہو چکے ہيں۔ ليکن ايک برادری ايسي ہے جس کے ليے يہ صورتحال نئي نہيں ہے۔ کوئٹہ کي شيعہ ہزارہ برادي گزشتہ ایک دہائی سے شدت پسند تنظیموں کے نشانے پر ہے۔ آٹھ سو لوگ ہلاک اور کئی سو زخمی اور معذور ہوچکے ہیں۔ پچھلی دو حکومتیں ان حملوں کو روکنے میں نا کام رہيں۔ کيا آنے والي حکومت اِس برادري کو تحفظ فراہم کر سکے گي۔

اس حصے میں دیکھیے کوئٹہ سے ریاض سہیل کی خصوصی رپورٹ۔

اسي صورتحال کے بارے ميں بات کرنے کے ليے بي بي سي کے اسلام آباد سٹوڈيو سے پروگرام میں براہِ راست شریک تھے جمعيت علمائے اسلام کے ترجمان جان اچکزئي۔