بدھ آٹھ مئی کا سیربین

بدھ آٹھ مئی کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔

عمران خان کے زخمی ہونے کے انتخابی مہم پر اثرات

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انتخابی جلسے کے دوران عمران خان کے زخمی ہونے کے واقعے سے تحریکِ انصاف کی انتخابی مہم کا تسلسل متاثر ہوا ہے۔ عروج پر پہنچ کر انتخابی رابطوں کا سلسہ وقت سے پہلے منقطع ہونے کے سیاسی مُضمِرات کیا ہوں گے؟

کیا عمران خان کے مخالفین کو اس کا کوئی فائدہ ہو پائے گا یا نہیں؟ لاہور سے شمائلہ جعفری کی رپورٹ۔

تحریکِ انصاف کے نئے پاکستان کے نعرے کے تناظر میں تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی سے کی گئی گفتگو اس حصے میں شامل ہے۔

عمران خان کے حادثے کے بعد نواز شريف نے فوري طور پر انتخابي مہم اور عمران خان کے خلاف مسلم ليگ ن کے اشتہارات روکنے کا اعلان کيا۔ جتني زيادہ سيٹيں عمران خان جيتيں گے اس کا براہِ راست اثر مسلم ليگ ن کے نتائج پر بھي پڑے گا۔ اسي بارے ميں مزيد بات کرنے کے ليے پروگرام میں ساتھ اسلام آباد سے براہ راست شامل ہوئے بي بي سي اردو کے ايڈيٹر عامر احمد خان۔

سب سے آخر میں دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آرا۔

پی پی پی کی انتخابی مہم بھٹو خاندان کے بغیر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

1970 کے بعد سے ہونے والے تقريباً تمام ہي انتخابات ميں اليکشن مہم کي جان بھٹو خاندان کا کوئي نہ کوئي فرد رہا ہے۔ تاہم اس بار پيپلز پارٹي کے بقول سکيورٹي خدشات کے باعث بھٹو خاندان کا کوئي فرد جماعت کي انتخابي مہم نہيں چلا رہا ہے۔ اسي تناظر ميں نامہ نگار رياض سہيل نے پيپلز پارٹي کے پارليماني گروپ کے سربراہ مخدوم امين فہيم سے پوچھا کہ بغير کسي بھٹو کے پيپلز پارٹي کے اليکشن ميں کيا امکانات رہ جاتے ہيں۔

پی پی پی نے طالبان کي دھمکيوں کے بعد سکیورٹی خدشات کی بنا پر بڑے انتخابی جلسے نہیں کیے اور انتخابي مہم زيادہ تر اشتہارات کے ذريعے ہي چلائي۔ پي پي پي کي انتخابي مہم اور ممکنہ نتائج پر مزيد بات کرنے کے ليے پروگرام میں کراچي سے بي بي سي کے نامہ نگار شاہ زيب جيلاني براہ راست شامل تھے۔

سب سے آخر میں دیکھیے آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آرا۔

اسفندیار ولی خان سے خصوصی انٹرویو

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان ميں انتخابي مہم اپنے اختتام کو پہنچا چاہتي ہے۔ اس اليکشن ميں عوامي نيشنل پارٹي کو اپني انتخابي مہم کھل کر چلانے کا موقع نہيں مل سکا۔ بي بي سي پاکستان کے ايڈيٹر ہارون رشيد نے اے اين پي کے سربراہ اسفند يار ولي خان سے خصوصی انٹرویو کیا اور پوچھا کہ دہشت گرد کس حد تک ان انتخابات پر اثر انداز ہوئے ہيں۔

شدت پسندي کے خلاف دوٹوک موقف اور جاني قربانيوں پر عوامي نيشنل پارٹي کا دعوٰي ہے کہ لوگوں کي ہمدردياں ان کے ساتھ ہيں۔اسی موضوع پر بات کرنے کے لیے تجزيہ کار رحيم اللہ يوسف زئي پروگرام میں شامل تھے۔

’تو پھر چلیں‘ انتخابی سلسلہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انتخابی فضا بھلے ہي کچھ بھی کہے، کچھ شہر جن کی نفسیات صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے وہ اپنے انتخابی فیصلے اسی نفسیاتی پس منظر کے تحت کرتے ہیں۔ ملتان کا خطہ بھی انہی علاقوں میں شامل ہے جن کا اپنا مخصوص سیاسی کلچر اور فیصلے کرنے کا اپنا ہی انداز ہے۔ وسعت اللہ خان نے اپنے ملتانی پڑاؤ میں کچھ ایسا ہی محسوس کیا۔

تو پھر چلیں۔

اسی بارے میں