جمعہ دس مئی کا سیربین

جمعہ دس مئی کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔

انتخابی مہم کے اتار چڑھاؤ اور خطرات

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اب سے چند گھنٹوں بعد پاکستان کے عوام ووٹ کا حق استعمال کر کے اپنے مستقبل کا فيصلہ کريں گے۔ گذشتہ رات اليکشن مہم اپنے اختتام کو پہنچي۔ اس مہم کے دوران شدت پسندي کے کئي واقعات ہوئے۔ انتخابي مہم اور ان انتخابات ميں سکيورٹي کي صورتحال پر بات کرنے کے ليے سٹوڈيو ميں موجود تھے سیاسی تجزیہ کار عمر حامد، بي بي سي اردو کے فراز ہاشمي، اور لاہور سے براہ راست موجود تھے ايکسپريس نيوز سے منسلک صحافي عدنان عادل۔

اس پروگرام میں جائزہ لیا گیا کہ اليکشن ميں مختلف سياسي جماعتيں کن اميدوں پر اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہيں۔

پہلے دیکھیے اس انتخابي مہم کے اتار چڑھاؤ پر کراچی سے ریاض سہیل کی رپورٹ۔

اس حوالے سے ہمارے مہمانوں کی گفتگو دیکھیے۔

سب سے آخر میں سوشل میڈیا پر آنے والی اپنی آرا دیکھیے۔

سیاسی شخصیات یا پروگرام میں سے کیا اہم ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تین ہفتے کی انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور اور پروگرام عوام کے سامنے بڑھ چڑھ کرپیش کیے۔ وہ جماعتیں جو سکیورٹی خطرات کے باعث براہ راست بھرپور عوامی رابطہ مہم نہیں چلا سکيں انہوں نے بھی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اپنا پیغام ووٹرز تک پہنچایا۔ عوام کی پارٹیوں سے کیا توقعات ہیں اور کیا لوگوں کے لیے شخصیات سے زیادہ ان کا پروگرام اہم ہوگا۔

اس موضوع پر دیکھیے نامہ نگار شمائلہ جعفری کی رپورٹ۔

شمائلہ جعفري کي رپورٹ کے بعد دیکھیے پروگرام میں شامل مہمانوں کی مزید گفتگو۔

بھارت اور افغانستان کی پاکستانی انتخابات میں دلچسپی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان ميں انتخابات سے عوام کو مختلف اميديں ہيں۔ وہيں باقي دنيا بھي ان انتخابات کو دلچسپي سے ديکھ رہي ہے۔ نئي حکومت کے آنے سے پاکستان کے عالمي رشتے کس طرح متاثر ہوں گے، اس کا تجزيہ کرنے کے ليے پروگرام میں واشنگٹن سے براہ راست موجود تھے امريکہ ميں پاکستان کے سابق سفير حسين حقاني، اسلام آباد سے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کے وائس چانسلر عادل نجم اور سٹوڈيو ميں کالم نگار عرفان حُسین اور سیاسی تجزیہ کار عمر حامد موجود تھے ۔

ان مہمانوں کے تجزیے سے پہلے دلي سے شکیل اختر کی رپورٹ شامل کی گئی جہاں نہ صرف سياسي حلقے بلکہ عوام بھي پاکستان کے انتخابات کو دلچسپي سے ديکھ رہے ہيں۔

اس کے بعد شامل تھی کابل سے نامہ نگار سيد انور کی رپورٹ جنہوں نے افغانستان میں ان انتخابات میں پائے جانے والی دلچسپی کا احوال بیان کیا۔

افغانستان اور انڈيا کے بعد ذکر امريکہ اور پاکستان کا تھا جس میس مہمانوں سے خصوصی گفتگو شامل تھی۔

سب سے آخر میں اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آرا۔

پاکستانیوں کے لیے مثالی رہنما کون ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برطانیہ میں چرچل کا چرچا ہے تو امریکہ میں ابراہم لنکن کا۔ دنیا میں ایسے بہت سے سیاسی رہنما گزرے ہیں جنہوں نے اپنی عوام کے مفادات کی سیاست کی جس کی وجہ سے انہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں دسویں عام انتخابات سر پر ہیں اور قوم ایک نئی حکومت کے انتخاب کی منتظر ہے۔ لیکن کسی بھی حکومت کا اہم ترین رکن اس کا وزیر اعظم یعنی رہنما ہوتا ہے۔

پاکستانی اپنے لیڈر میں کیا خصوصیات دیکھنا چاہتے ہیں؟ دیکھیے اسلام آباد سے نامہ نگار ارم عباسی کی رپورٹ۔

اس کے بعد دیکھیے مہمانوں سے مزید گفتگو۔

اسی بارے میں