پیر تیرہ مئی کا سیربین

پیر تیرہ مئی کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔

میاں نواز شریف کی ترجیحات

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کی کامیابی کے بعد اب بات ہو رہی ہے کہ ملک کو درپيش مسائل اور چيلنچز کا سامنے کرنے کي اُن ميں کتني صلاحيت ہے۔ دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ اور بےروزگاری جيسے مسائل پر بی بی سی اردو کے شفيع نقي جامعي نے میاں نواز شريف سے خصوصی انٹرویو لیا۔

یہ انٹرویو اس پروگرام میں مختلف حصوں میں دکھایا جائے گا مگر اس حصے کے شروع میں دیکھیے کہ نئی حکومت کو کن مسائل کا سامنا ہو گا ان مسائل کا جائزہ لينے کي کوشش کي اسلام آباد میں نامہ نگار ہارون رشید نے۔

اليکشن کے بعد مسلم ليگ نواز کے رہنما اور متوقع وزير اعظم نواز شريف سے انٹرويو ميں بي بي سي اردو کے شفيع نقي جامعي نے پوچھا کہ پاکستان میں اسلام کے نام پر جو تشدد ہورہا ہے، جو بم حملے اور خونریزی ہورہی ہے اِن دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے وہ کیسے نمٹيں گے؟

مياں نواز شريف کو وزيراعظم بننے کے بعد جن چيلنچز کا سامنا ہوگا اُن کے جائزے اور تجزيے کے ليے پروگرام میں لندن سٹوڈيو ميں موجود تھے امريکي تھنک ٹينک سٹريٹفور سے منسلک کامران بخاري اور تجزيہ نگار امين مغل جبکہ بي بي سي اسلام آباد سٹوڈيو سے براہ راست پروگرام میں شریک تھیں سابق سفارت کارڈاکٹر مليحہ لودھي۔

آئندہ حکومت کی خارجہ پالیسی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پروگرام کے اس حصے میں جاری رہے گی گفتگو جو پہلے حصے میں شروع کی گئی تھی کہ نئي حکومت کو درپيش چيلينجز کیا ہوں گے۔

خصوصی طور پر بات کی گئی خارجہ امور کی، امريکہ اور انڈيا کے ساتھ تعلقات کي بات مگر اس سے پہلے پاکستان ميں ايک بہت ہي متنازع مسئلے کی بات ہو گی اور وہ ہے قبائيلي علاقوں ميں امريکي ڈرون حملے۔ دیکھیے گا کہ میاں نواز شریف اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔

اسی موضوع سکيورٹي صورت حال کا ايک پہلو ملک سے بڑھ کر علاقائي بھي ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے ہمسايہ ملک انڈيا کو بھي خدشات رہتے ہيں جو دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتے ہيں۔ انتخابات کے نتائج آتے ہي انڈيا کے وزير اعظم نے نواز شريف کو انڈيا آنے کي دعوت دي اور اسی بارے میں میاں نواز شریف سے پوچھا گیا جن کا جواب اس حصے میں شامل ہے۔

دیکھیے پروگرام میں شامل تجزیہ کاروں سے مزید گفتگو اس حصے میں۔

عالمی خبریں اور نئی حکومت کے لیے شدت پسندی کا مسئلہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس حصے میں سب سے پہلے شامل تھیں عالمی خبریں جن میں سب سے پہلی خبر تھی ترکی سے جہاں گزشتہ دنوں ہونے والے دو بم دھماکوں کے بارے میں شامی حکومت پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے مگر شام کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں اُس کا کوئی ہاتھ نہیں۔

دیکھیے تفصیلات نصرت جہاں کی زبانی رپورٹ میں۔

اس کے بعد شامل تھیں مزید عالمی خبریں۔

عالمی خبروں کے بعد پروگرام میں جاری گفتگو مزید آگے بڑھتی ہے جس میں ذکر ہے کہ میاں نواز شریف کے مطابق ان کا سب سے بڑا چیلنج کیا ہو گا۔

دیکھیے کہ پروگرام میں موجود تجزیہ نگار کیا رائے رکھتے ہیں۔

نئی حکومت توانائی کا بحران کیسے حل کرے گی؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

توانائی کے بحران نے ان انتخابات میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ کاروباری شخص سے لیکر عام آدمی سب ایک ہی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ملک ميں نئي حکومت کی اولين ترجيحات ميں ملک کی معیشت اور توانائی کے بحران کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔

اس حوالے سے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین سے لیا گیا خصوصی انٹرویو آپ اس حصے میں دیکھیے۔

شوکت ترین کے مطابق ملک ميں فورن ايکسچينج کے ريزرو بہت کم ہيں۔ شوکت ترين صاحب کہتے ہيں کہ آنے والي حکومت کو آئي ايم ايف کي مدد لينا پڑے گي يا پھر کسي دوست کے پاس امداد کے ليے جانا پڑے گا۔ اس مشکل وقت ميں کيا کوئي دوست سامنے آئے گا يا آئي ايم ايف کي دوا کا کڑوا گھونٹ پينا ہي پڑے گا۔ کامران بخاري، آپ بتائيں کون سا دوست مدد کو آئے گا، امريکہ، يا سعودي عرب يا کوئي اور؟

اسی بارے میں