بدھ پانچ جون کا سیربین

بدھ پانچ جون کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سیربین بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔

میاں نواز شریف کی تاریخی وزارتِ عظمیٰ کا آغاز

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کی تاریخ میں جہاں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل ہوا وہیں مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھال کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ليکن سوال يہ ہے کہ نواز شريف نے اپنے طويل سياسي سفر ميں کيا سبق سيکھے اور عوام کو اُن سے کيا توقعات ہيں۔

نامہ نگار صبا اعتزاز نے میاں نواز شریف کي شخصيت اور سياسي ارتقاء پر نظر ڈالي ہے۔

پاکستان کے نو منتخب وزيراعظم مياں نواز شريف کے سامنے جو بڑے چيلنج ہيں اُن ميں فوج اور عدليہ سے تعلقات بھي شامل ہيں۔ اِسي موضوع پر بات کرنے کے ليے اسلام آباد اسٹوڈيو ميں موجود تھے صحافي عامر متين۔

سب سے آخر میں آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آرا شامل ہیں۔

شام میں القصیر پر حکومتی افواج کا قبضہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس حصے میں شامل تھیں عالمی خبریں جن میں پہلی خبر ہے شام سے۔

شام میں سرکاری فوجوں نے حزب اللہ کے جنگجوں کی مدد سے سرحدی شہر القصیر پر دو ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔

لبنان کی سرحد سے صرف دس کلو میٹر پر واقع القصیر باغیوں کے لیے رسد حاصل کرنے کا اہم راستہ ہے۔ القصیر سے پسپا ہونے کے بعد باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنائیں گے۔ رپورٹ پيش کر رہے ہيں، راجہ ذوالفقار علي

شامي شہر القصیر میں کامیابی سرکاری فوجوں کے لیے کس قدر اہم اور باغی اس شکست کو کسی طرح دیکھ رہے ہیں۔ اس ساری صورت حال پر دمشق میں موجود بی بی سی کی عالمی امور کی نامہ نگار لز ڈوسٹ نے نظر ڈالی۔

شام کي صورتحال پر بي بي سي نے امريکي وزارتِ خارجہ کے مشير ولي نصرسے بات کي اور ان سے پوچھا کہ اگر شام کے موجودہ حالات اور تاريخ پر نظرڈاليں تو کيا يہ واضح نہيں ہوتا کہ صدر اسد کي حکومت سيکيولرزم کي اتني سختي سے کيوں حمايت کرتي تھي۔

دہشتگردوں کی اصلاح، مصر میں لبرل مذہبی رجحانات میں جدوجہد

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دہشتگردی کے خلاف کوششوں میں خودکش حملے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مطابق دو ہزار دو سے دو ہزار بارہ تک ملک میں تین سو پچاس کے لگ بھگ خودکش حملے ہوئے جن میں ہزاروں بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔

خودکش حملہ آوروں کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ تو دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے ان نوجوانوں کو خودکش حملوں پر کیسے آمادہ کیا جاتا ہے اور اب ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے کیا کوششیں کی جارہی ہیں ـ

دیکھیے نامہ نگار شمائلہ جعفری کی رپورٹ۔

اس بارے ميں دیکھیے فاٹا ريسرچ سينٹر کے ڈائريکٹر ڈاکٹر اشرف علي سے خصوصی گفتگو کہ ان نوجوانوں کی بحالی کے لئے اس قسم کے پروگرام کتنے مفید ثابت ہوتے ہیں؟

آخر میں شامل ہیں اس موضوع پر سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آرا۔

مصر میں انقلاب کے بعد سے ملک کے معاشرے میں لبرل اور مذہبی رجحانات کے درمیان جدو جہد جاری ہے۔ اور یہ روز مرہ کی زندگی کے تمام پہلؤوں کو متاثرکر رہی ہے۔ ابھی تک مصر کی شامیں رنگین تو ہیں لیکن سوال يہ ہے کہ يہ رونقيں کب تک رہيں گي؟

تفصیل عارف شمیم کی زبانی۔

کلک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہر بدھ کو سیربین میں ٹیکنالوجی کا ہفتہ وار سلسلہ کلک شامل ہوتا ہے۔

آج کے کلک ميں ہم ديکھيں گے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کي مدد سے ايک تاريخي پُل کو ايک فن پارے ميں تبديل کيا گيا ہے اور ہمیشہ کی طرح ٹیکنالوجی کی مدد سے کيسے کيسے حیرت انگیز کام ممکن ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں