جمعہ سات جون کا سیربین

جمعہ سات جون کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام پاکستان میں ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا اور بی بی سی اردو پر لائیو سٹریم کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیربین بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔

بھارت بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں کے باسی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بنگلہ دیش کی سرحد کے نزدیک ایسے درجنوں گاؤں ہیں جن کے باشندے دنیا کے کسی ملک کے شہری نہیں۔ اسي طرح کے کئي گاؤں بنگلہ ديش کي سرحد پر بھي ہيں۔ بی بی سی اردو کے نامہ نگار شکيل اختر نے ان سرحدي گاؤوں کا دورہ کيا اور اس بارے میں بتانے کے لیے وہ خود پروگرام میں براہِ راست دلي سٹوڈيوز سے شامل ہوئے۔

دیکھیے ان کی رپورٹ اور انہوں نے ان علاقوں میں کیا دیکھا۔

سب سے آخر میں دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔

عالمی خبریں اور خواجہ سراؤں کا بڑھاپا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس حصے میں شامل تھیں عالمی خبریں۔

اقوام متحدہ نے شام کے لیے اپني تاریخ کی سب سے بڑی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُسے شام ميں اپنی اِمدادی کوششيں جاري رکھنے کے ليے تقريباً پانچ ارب ڈالر درکار ہيں۔ اُدھر یورپی یونین کے امیگریشن حکام نے شامی پناہ گزینوں سے بدسلوکی کرنے پر یونان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دیکھیے سو لوئیڈ رابرٹس کی رپورٹ کاشف قمر کي زباني۔

اس کے بعد ايک نظر ديگر بين الاقوامي خبروں پر۔

امريکي صدر باراک اوباما نے فون اور انٹرنيٹ کي خفيہ نگراني کے نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس پر عمل درآمد کانگريس اور عدالتوں کي سخت نگراني ميں ہو رہا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم نے حکومت کے مخالف مظاہرین کو کسی قسم کي بھي رعایت دینے سے انکار کیا ہے۔

برطانیہ میں کی جانے والی ايک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سال دو ہزار بيس تک برطانیہ میں کینسر ميں مُبتلا افراد کی تعداد مجموعی آبادی کے نصف تک پہنچ جائے گی۔

برطانيہ کي ملکہ الزبتھ نے مرکزي لندن میں بی بی سی کے ہیڈ کوارٹرز کا آج رسمی افتتاح کیا۔

اُنہیں اپنی شادی کی تیسویں سالگرہ کی تیاری ميں مصروف ہونا چاہیے تھا لیکن روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور اُن کی اہلیہ نے اعلان کیا ہے کہ ُانہوں نے طلاق کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس جوڑے کو گزشتہ کئی سالوں میں بہت کم اکٹھے دیکھا گیا جس کے باعث اُن کی شادي شدہ زندگی کے بارے میں پہلے سے افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ تفصیل عارف شمیم سے

نوجوان خواجہ سراؤں کو آپ نے سڑکوں پر بھيک مانگتے اور شاديوں ميں ناچتے ہوئے ديکھا ہو گا۔ اِن نوجوانوں کي زندگي پر لوگ ترس کھاتے ہيں، افسوس کرتے ہيں۔ يہي خواجہ سرا جب بوڑھے ہو جاتے ہيں تو اُن کي زندگي اور بھي تکليف دہ ہو جاتي ہے۔ بوڑھے ہو کر يہ اپني زندگي کيسے گزارتے ہيں؟ ديکھيے لاہور سے علی سلمان کي رپورٹ

برما میں سرمایہ کاری اور امریکہ کے ڈرائیو ان سینیما

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جب آپ برما کے بارے میں سوچتے ہیں تو یقیناً سب سے پہلے جو ایک خیال آپ کے ذہن ميں آتا ہے وہ ہے آنگ سان سوچی کا يا پھر وہاں مشکلات ميں گھرے روہنگيا مسلمانوں کا۔ لیکن بڑے صنعت کاروں کو خیال آتا ہے برما ميں تجارت کرنے کے لامحدود آپشنز کا۔ قدرتي وسائل سے مالا مال اور کبھي مستحکم معيشت والا يہ ملک/ ايک بار پھر دنيا سے جڑنے کي کوشش کررہا ہے۔ ليکن ايسا کرنے کے ليے اسے کن اقدامات کي ضرورت ہے؟ ديکھیے خديجہ عارف کی رپورٹ ميں۔

اسي موضوع پر بات کرنے کے ليے پروگرام میں شامل ہوئے دلي ميں واقع جواہر لال نہرو يونيورسٹي ميں عالمي امور کے ريٹائرڈ پروفيسر اور تجزيہ نگار پُشپيش کے پنت۔

آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آراء اس کے بعد۔

کراچي کے لوگوں کو شايد ياد ہو کہ شہر ميں کبھي ايک ڈرائيو اِن سنيما ہوا کرتا تھا، جہاں لوگ اپني گاڑيوں ميں بيٹھ کر فلميں ديکھا کرتے تھے۔ وہ سنيما تو اب نہيں رہا ليکن امريکہ ميں يہ آج بھي مقبول ہيں۔ امريکہ ميں ڈرائيو اِن سنيما کو شروع ہوئے اب اِسي برس ہو گئے ہيں۔

تفصيل کے ساتھ ارم گيلاني۔

تو پھر چلیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہر جمعے کو پیش کیا جاتا ہے ہفتہ وار سلسلہ ’تو پھر چلیں‘

پاکستان بھلے چھیاسٹھ برس پرانا ہو مگر اس کی تہذیب کم ازکم چھیاسٹھ سو سال پرانی ہے۔ بھلا ہو مغربی ماہرین کا جنہوں نے مہر گڑھ ، ہڑپا ، موہن جو دڑو اور ٹیکسلا وغیرہ کے کچھ آثار دریافت کرليے۔ پھر بھی کون جانے کتنے مہر گڑھ اور موہن جو دڑو آج بھی زیرِ زمین ہیں۔ ایسی ہی ایک دبی ہوئی تہذیب راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے درمیان وسعت اللہ خان کی راہ میں بھی آگئی۔ تو پھر چلیں اس کا حال جاننے

اسی بارے میں