پیر سترہ جون کا سیربین

پیر سترہ جون کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام پاکستان میں ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا اور بی بی سی اردو پر لائیو سٹریم کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیربین بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو بھی نشر کیا جاتا ہے۔

بلوچستان حملے:کیا حکومت پالیسی تبدیلی کرنے والی ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں سکیورٹی اداروں کا جتنا کنٹرول ہے کسی اور شہر میں نہیں تو پھر کوئٹہ کیوں بار بار دہشت گردی کا نشانہ بنتا ہے۔

وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ’ایک سوال انٹیلیجنس اور سکیورٹی اداروں سے ہے کہ کسی شہر میں اس سے زیادہ سکیورٹی اداروں کا گھیرا نہیں ہو سکتا جتنا کوئٹہ میں ہے تو کیا وجہ ہے کہ بار بار کوئٹہ شہر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اور وہ شہر میں جہاں چاہے جس طرح سے چاہے حدف کو نشانہ بناتے ہیں۔‘

نو منتخب صدر حسن روحانی اور ایرانی خارجہ پالیسی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایران کے نو منتخب صدرحسن روحانی نے تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہمارا جوہری پروگرام مکمل طور پر شفاف ہے۔ لیکن ہم زیادہ شفافیت دکھانے اور ساری دنیا پر واضح کرنے کے لیے تیار ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اقدامات مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے دائرے کے اندر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں گے اور دنیا سے بہتر تعلقات کی کوشش کریں گے

پاکستانی ٹی چینلوں پر سیاسی گانوں پر پابندی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل عام اور جمہوری نظام کے عدم تسلسل ایسے مسائل ہے جو نئی نسل کے گلوکاروں کے جذبات پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے ’خون‘ اور دھنک دھنک وہ دھنیں ہیں جس میں سیاسی غفلت اور فوج کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کی گئی ہے۔

نوجوانوں کی جانب سے موسیقی کے ذریعے پاکستانی نظام کی غلطیوں پر اس طرح کی تنقید پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ لیکن ان سیاسی گانوں کو پاکستان کے ٹی وی چینلنوں نے ٹی وی پر چلانے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ایسے متنازع گانوں کی تشہیر کا ذریعہ یوٹیوب پر پہلے سے ہی پاکستان میں پابندی عائد ہے۔

کیا یہ تنگ نظری ان گلوکاروں کو اہم مسائل پر بات کرنے سے روک سکے گی۔ اسی کا جائزہ لیا ہے ہماری نامہ نگار ارم عباسی نے اپنی اس رپورٹ میں۔

تاجر برادی پریشان کیوں؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

وفاقی بجٹ میں وفاقی حکومت نے غیر رجسٹرڈ کاروباری پارٹی کے ساتھ کاروبار کرنے پر دو فیصد اضافی ٹیکس عائد کردیا ہے۔ اس اقدام سے کاروباری کمیونٹی خوش نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس سے غیر رجسٹرڈ کاروبار ٹیکس نیٹ میں آ سکیں گے۔ لیکن تجارتی حلقے اس اضافی ٹیکس کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار خرم حسین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس اضافی ٹیکس کے خاتمے کے مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں