ترکی: سیاحت سے وابستہ افراد کی مشکلات

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 جون 2013 ,‭ 16:08 GMT 21:08 PST
  • وولکان، ملازم پیشہ

    میں اتاترک ہوائی اڈے پر ملازمت کرتا ہوں اور میرے لیے شاید یہ احتجاج کوئی مالی نقصان نہیں لایا مگر میری زندگی کچه مشکل ہوئی ہے آنے جانے میں مشکل ہوتی ہے اشیا کی فراہمی مشکل ہوتی ہے مگر اتنی زیادہ نہیں اور یہ ختم ہوتا نظر نہیں آتا ہے کیونکہ اس ملک میں جمہوریت صرف نام کی ہے۔

  • پاکیزہ، دکاندار

    میرا تو کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے اور پتہ نہیں آنے والے دنوں میں کیا ہوگا۔ عرصہ ہوگیا جب میری دکان میں کوئی داخل ہوا ہو۔ میں ماحول دوست ہوں چاہتی ہوں کہ غازی پارک رہے اور سبزہ ہو اور احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ہوں مگر میرا بھی پیٹ ہے اور شاید اس کی کسی کو فکر نہیں ہے۔ یہ میرا بھی ترکی ہے صرف اردوغان کا نہیں ہے۔

  • احمت جانگلیماس، نائی

    میں وزیر اعظم اردوغان کی حمایت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ اقتدار میں رہیں اور یہ سب احتجاج پارک کے بارے میں تو ہے ہی نہیں یہ صرف اردوغان کو کمزور کرنے کے لیے ہے کیونکہ لوگ نہیں چاہتے کہ ترکی ترقی کرے۔ میں تو کئی دن سے دکان ہی نہیں کھول پایا ہوں اور اسی فیصد تک میری آمدنی کم یا ختم ہوئی ہے جو کہ میرے لیے اہم ہے۔

  • اتاکم، فلمساز

    میں دستاویزی فلمیں بناتا ہوں اور آج کل میرا کاروبار بہت بہتر ہے مگر میں کافی وقت احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے میں گزارتا ہوں جیسے اس وقت میں استقلال سٹریٹ میں آپ کے سامنے دھرنا دیے بیٹها ہوں۔ مجھے کام کی آفر ہیں اور میں کافی زیادہ کما رہا ہوں باقی دنوں کی نسبت مگر مجھے اپنے ملک میں امن چاہیے۔ میرے لیے پیسے سے زیادہ میرے حقوق اہم ہیں۔ میرا احتجاج کا حق میرا زندہ رہنے کا حق۔ اور ووٹنگ جمہوریت نہیں ہے اس کے لیے اور بھی بہت سے لوازمات ہیں جیسا کہ میرا احتجاج کا حق جو جمہوریت مجھے دیتی ہے۔

  • انیس، طالب علم

    میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ پولیس مجھ پر حملے بند کرے اور میں نے کبہی بھی پولیس پر حملہ نہیں کیا یہ سب نقصان جو ہورہا ہے یہ پولیس کی وجہ سے ہے جو پہلے حملہ کرتی ہے۔ میں امن چاہتا ہوں اور تشدد کا خاتمہ چاہتا ہوں۔

  • علی سبان: ٹور آپریٹر

    میرا کام سیاحوں سے متعلق ہے اور خصوصاً عرب سیاحوں سے متعلق اور میں اس سے کافی حد تک متاثر ہوا ہوں اس کی مالیت کا اندازہ کوئی نہیں ہے مگر آمدنی میں کافی کمی واقع ہوئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اب یہ ختم ہو۔

ترکی میں جاری مظاہرے انیسویں دن میں داخل ہورہے ہیں اور ان کا براہ راست اثر ترکی کی ابھرتی ہوئی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ترکی کی معیشت کا بہت بڑا حصہ صنعتوں اور سیاحت پر مشتمل ہے اور ترکی سیاحوں کے لیے دنیا کا چھٹا پسندیدہ ترین ملک ہے۔

استنبول ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے اور اس میں جاری ان مظاہروں نے شہر کو بہت حد تک مفلوج کر دیا ہے خاص طور پر شہر کے مرکزی علاقے تقسیم چوک کے اردگرد کے علاقوں کو جو سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔

ترکی کے صدر کی ویب سائٹ اور ترک سیاحت کے محکمے کی ویب سائٹ کے مطابق ترکی میں 2011 میں ساڑھے تین کروڑ سیاح آئے تھے جنھوں نے ملک کی معیشت میں 23 ارب ڈالر کا سرمایہ شامل کیا۔

تقسیم چوک اور غازی پارک کے مسئلے کی وجہ سے بڑی تعداد میں یہ شعبہ اور اس سے منسلک لوگ متاثر ہوئے ہیں جن کی روزی سیاحوں کی آمد سے وابستہ ہے اور استنبول میں ایسے افراد کی اکثریت ہے۔

استنبول کے تقسیم چوک اور غازی پارک کے ارد گرد کے علاقوں میں مختلف کاروبار کرنے والے افراد کیا سوچتے ہیں اور ان مظاہروں کا ان کے کاروبار پر کیا اثر پڑا ہے، اس کا جائزہ دیکھیے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔