اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تیس سال پہلے۔۔۔

Image caption ایم آر ڈی کے رہنماؤں کا ایک اجلاس۔ (تصویر میں نوابزادہ نصر اللہ خان، بے نظیر بھٹو، مولانا فضل الرحمان اور ملک قاسم دیکھے جا سکتے ہیں)

تیس برس پہلے، اگست اُنیس سو تِراسی میں، پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کا ایک نیا باب تب شروع ہوا جب تحریکِ بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی نے جنرل ضیا کے مارشل لا کے خلاف احتجاج میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا۔

جب انیس سو ستتر میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انہوں نے نوے دن کے اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا۔

جنرل ضیا نے پھر کئی مرتبہ ایسے وعدے کیے اور کئی مرتبہ مُکر گئے۔ ساتھ انہوں نے پاکستان میں سیاسی جماعتوں، مزدور اور طلبا تنظیموں کے خلاف سخت گیر کارروائی کا آغاز کیا اور مارشل لا کے ذریعے ان کو کچلنے کی کوشش کی۔ اس مارشل لا دور کے خلاف ملک بھر میں ایک بڑی احتجاجی تحریک چل پڑی جس کا مقصد پاکستان میں مارشل لا کا خاتمہ اور جمہوریت کی بحالی تھی۔

عنبر خیری نے پاکستان میں تحریک بحالی جمہوریت کی تحریک یا ایم آر ڈی کے کچھ رہنماؤں سے اس پر بات کی۔