پیر 30 ستمبر کا سیربین

پیر 30 ستمبر کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر بھی نشر کیا گیا تھا۔

اہم نتائج نہیں پر مذاکرات شروع

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بھارت کے وزيرخارجہ سلمان خورشيد نے بی بی سی اردو کو بتايا ہے کہ نيو يارک میں انڈيا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درميان ملاقات ميں طے ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درميان براہ راست رابطے کے نظام کو قائم کيا جائے گا۔ تقريباً پندرہ سال بعد ہونے والی ملاقات میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندي پر بھي اتفاق ہوا۔ اس ملاقات سے کوئي بڑے يا اہم نتائج سامنے نہیں آئے ہيں ليکن دونوں ممالک ميں مذاکرات کا عمل شروع ہوگيا ہے، يہ اپنے آپ ميں ايک مثبت پيش رفت سمجھي جا رہي ہے۔ نيو يارک سے برجيش اوپادھيائے

ہمارے نامہ نگار برجيش اوپادھيائے کي رپورٹ آپ نے ديکھی۔ اس وقت برجيش ہمارے ساتھ نيو يارک سے موجود ہیں۔ برجيش آپ نے مذاکرات کے دوران اور ان کے بعد بھي وہاں کئي رہنماؤں سے بات کي، آپ کو کيا تاثر ملا، دونوں ممالک کے درميان مذاکرات کا مستقبل کيا ہے؟

قصہ خوانی دھماکے کے بعد ہڑتال اور لالو جیل میں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پشاور کے قصہ خوانی بازار میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بیالیس ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل ناصر درانی نے کہا ہے کہ پشاور میں مزید حملوں کا خدشہ ہے اور اِن حملوں کو روکنے کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اِس واقعہ کے خلاف آج پشاور میں قصہ خوانی بازار، جھنگی محلہ، خیبر بازار اور دیگر قریبی علاقوں میں کاروبار مکمل طور پر بند رہا۔ پشاور سے عزیزاللہ خان

انڈيا کی سیاسی جماعت آر جے ڈی يعني راشٹريہ جنتا دل کے بانی لالو پرساد یادو کو رانچي کي ایک عدالت نے بدعنوانی کے سترہ برس پرانے ایک معاملے میں قصوروار قرار دیا ہے۔ انيس سو چھيانوے میں جب وہ بِہار کے وزیر اعلی تھے اُس وقت یہ الزام لگا تھا کہ مویشی پروری کے محکمے میں اربوں روپے کی بدعنوانی کی گئی۔ عدالت نے لالو پرساد يادو کے علاوہ ایک اور سابق وزیر اعلی اور ایک رکنِ پارلیمیان سمیت پینتالیس افراد کو قصوروار قرار دیا ہے۔ دلی سے شکیل اختر کی رپورٹ

زلزلے میں عورتیں اور بچے سب سے زیادہ متاثر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبۂ بلوچستان ميں زلزلے کو آئے اب چھ روز گزر چکے ہيں ليکن متاثرين کے ليے امداد کي مناسب ترسيل اب بھي ايک مسئلہ بني ہوئي ہے۔ ويسے تو اِس صورتحال ميں سبھي مشکلات کا شکار ہوتے ہيں ليکن خواتين اور بچے سب سے زيادہ متاثر ہوتے ہيں۔ زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان ضلع آواران میں ہوا ہے جہاں امداد کی امید لگائے بیشتر متاثرین اب تک خالی ہاتھ بيٹھے ہیں۔ اور تاخیر کی سب سے زیادہ قیمت عورتیں اور بچے ادا کر رہے ہیں۔ آواران سے صباء اعتزاز کی رپورٹ۔

اسي بارے ميں اب سے کچھ دير پہلے ميں نے بات کي ڈاکٹر عنيزہ نياز سے جو زلزلے سے متاثرہ علاقوں ميں پہلے بھي کام کر چکي ہيں۔ ميں نے پہلے تو اُن سے يہي پوچھا کہ زلزلے اور اس طرح کی دیگر قدرتی آفات کے دوران خاص طور پر خواتین اور بچوں کو کس قسم کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

بلوچستان ميں زلزلے کو چھ روز گزر جانے کے باوجود متاثرہ علاقوں ميں امداد کي ترسيل اب بھي ايک مسئلہ بني ہوئي ہے۔ نامہ نگار رياض سہيل نے صوبے کے وزيراعلي ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے اِسي بارے ميں بات کي۔

استعمال کے مطابق ادائیگی کی شرط

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اور اب وقت ہوا ہے ہمارے بِزنس سيگمينٹ کا۔

کسی بھی لمبے تعلق یا کم سے کم وقت کی پابندی سے آزاد، صرف استعمال کے مطابق ادائیگی یا پے ایز یو گو کا تصور موبائل فون کے لیے تو یقیناً بہت عام ہے لیکن عام زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی اسی تصور کے استعمال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ بہت سے ملکوں میں ایسے کاروبار بڑھتے ہی جارہے ہیں جن میں کاروباری ادارے اشیاء اور خدمات دونوں ہی صرف استعمال کے مطابق ادائیگی کی شرط پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن کیا یہ تصور واقعی پیسے بھی بچاتا ہے۔ بی بی سی کی بزنس کی نامہ نگار سوزانا اسٹریٹر کی رپورٹ پیش کررہی ہیں ثناء گلزار۔

اسی بارے میں