اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پیر 28 اکتوبر کا سیربین، حصۂ سوم

پچھلے کچھ عرصے ميں اسلامي نظرياتي کونسل کي يکے بعد ديگرے منظر عام پر آنے والي سفارشات پر پاکستان ميں متعدد حلقوں نے کڑي تنقيد کي۔ ناقدين کا کہنا تھا کہ کونسل کي سفارشات بعض اوقات ملکي قوانين اور انساني حقوق سے متصادم ہوتي ہيں۔ بعض لوگ تو يہ بھي کہتے ہيں کہ ملک ميں پارليمان اور سپريم کورٹ کي موجودگي ميں اسلامي نظرياتي کونسل کي ضرورت باقي نہيں رہتي۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے قيام کو کئی دہائیاں گزر گئی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ کیا پاکستان کے قوانین اسلام کے منافی ہیں یا نہیں۔ نامہ نگار عنبر شمسی نے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ کیا کونسل اپنی آئينی ذمہ داریاں پوری کررہي ہے؟

حدود آرڈننس کے ریپ سے متعلق شقوں کو دو ہزار چھ میں خواتین کے تحفظ کے لئے قانون یا ویمن پروٹیکشن ایکٹ نے عملی طور پر تبدیل کیا تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے کچھ ماہ قبل اس قانون کو اسلام اور سنت کے خلاف قرار دیا تھا۔ سیربین کے اس حصے میں شامل ہے اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانہ محمد خان شیرانی سے خصوصی انٹرویو بھی۔