ایل او سی پر بسنےوالوں پر کیا بیت رہی ہے؟

لوگ علاقہ چھوڑ رہے ہیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ساڑھے سات سو کلو میٹر لمبی کنٹرول لائن کے نزدیک بسے ہوئے گاؤں اور قصبوں میں بھی بے یقینی کی فضا بنی ہوئی ہے ۔ گولہ باری اور فائرنگ میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ اپنی آبادیوں سے دوسرے مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں ۔ ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے ان میں سے کچھ آبادیوں کا دورہ کیا ہے

لوگ گھروں میں بنکر بنا رہے ہیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی جہاں دونوں ممالک کی حکومتوں اور فوج کے لیے دردِ سر ہے وہیں یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اس عبوری سرحد پر رہتے ہیں۔ نامہ نگار تابندہ کوکب نے ایل او سی کے قریب رہنے والے لوگوں کے حالات جاننے کی کوشش کی ہے۔

سیالکوٹ کے دیہادتوں پر خوف کا سایہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

سیالکوٹ اور جموں کی ورکنگ باونڈری پر گذشتہ دو ہفتے سے پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ سیالکوٹ ورکنگ باونڈری سے بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کی رپورٹ