اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’وکلاء کے منفی رویے کے باعث وکلاء گردی کا لفظ ایجاد ہوا‘

سولہ مارچ دو ہزار نو کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے اعلان کے بعد، اُن کا فتح بھرا چہرہ دیکھنے کے لیے، اُن کی رہائشگاہ کے باہر سینکڑوں لوگ جمع تھے۔

جب وہ بالکنی پر نمودار ہوئے تو میڈیا کے درجنوں کیمروں نے اُن کے شانہ بشانہ دو انجان چہروں کو بھی فلمبند کیا۔ دونوں وکلاء ملتان کے جڑواں بھائی محمود اشرف خان اور خالد اشرف خان تھے۔

محمود ملتان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر تھے اور خالد نے وکلاء کی تحریک کے دوران کئی مرتبہ زخمی ہوئے۔

دنیا اعتزاز احسن، منیر اے ملک، حامد خان، اطہر من اللہ اور علی احمد کُرد جیسے قدآور وکلاء کے چہروں سے واقف تھی لیکن میڈیا اور عوام کی نظروں سے اوجھل سینکڑوں کالے کوٹ والوں نے تحصیل، ضلعے اور ہائی کورٹ بار کی سطح پر عدلیہ کی بحالی کی تحریک کی رگوں میں خون رواں رکھا۔

سنیے ظہیرالدین بابر کی رپورٹ