موئنجودڑو کے کھنڈرات پر سندھ فیسٹیول کا سٹیج

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 جنوری 2014 ,‭ 19:48 GMT 00:48 PST

موئنجوداڑو کے کھنڈرات پر سندھ فیسٹیول کا سٹیج

  • پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 21 جنوری کو ایک نجی ٹی وی چینل کے ذریعے پاکستان کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنی ثقافت اور روایات سے اس طوفان کا مقابلہ کریں گے اور جہالت کے اندھیروں کو فنا کر کے دم لیں گے۔ انھوں نے سندھ فیسٹیول کے انعقاد کا اعلان بھی اسی خطاب کے دوران کیا۔

  • سندھ فیسٹیول کی تیاریاں عروج پر ہیں لیکن ان تیاریوں کی تصاویر منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر شور مچ گیا۔ (صحافی امر گرڑو نے یہ تصاویر 28 جنوری کو کھینچیں)

  • اس سندھ فیسٹیول کے انعقاد کے لیے مقامی صحافی امر گرڑو کے مطابق موئنجودڑو کے کھنڈرات کے اوپر سٹیج تعمیر کیا جا رہا ہے اور تقریب کے لیے عارضی تعمیرات کی جا رہی ہیں۔

  • یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور اس فیسٹیول کے روح و رواں بلاول بھٹو زرداری سے متعدد افراد نے ٹوئٹر پر سوال کیے اور انھیں ان تصاویر کے ساتھ ٹیگ بھی کیا۔ مگر عام طور پر ٹوئٹر پر سرگرم رہنے والے بلاول نے ابھی تک کسی کا جواب نہیں دیا ہے۔

  • یاد رہے کہ اس پر تبصرے اور ردِ عمل کے بعد پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت، صوبائی قیادت اور وزرا سے رابطہ کیا گیا مگر کسی سے جواب موصول نہیں ہوا۔

  • سوشل میڈیا پر موئنجودڑو پر سٹیج لگائے جانے اور دیگر تنصیبات پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے پی پی پی کی سرکردہ رہنما اور سندھ کے وزیراعلیٰ کی مشیر شرمیلا فاروقی نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے کئی ماہرینِ تعمیرات اور آثارِ قدیمہ کا علم رکھنے والے ماہرین کو اس فیسٹیول میں مشاورت کے لیے رکھا ہے اور ہم نے ان کی مرضی سے اس جگہ کو منتخب کیا ہے۔‘

    ان سے بار بار پوچھا گیا کہ کون سے ماہرینِ تعمیرات اس معاملے میں شامل ہیں مگر انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔

  • یونس خان نے بی بی سی اردو کے فیس بک پر لکھا کہ ’اگر سٹیج کھنڈرات سے ہٹ کر بنایا جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر یہ سٹیج کھنڈرات میں بنایا جائے تو یہ مناسب نہیں ہے۔‘

  • زین العابدین نے بی بی سی اردو کے ٹوئٹر کو ٹیگ کر کے لکھا کہ ’لوگ کھنڈرات کے لیے میوزیم بناتے ہیں اور بھٹو نے ان کو تباہ کرنے کے لیے سٹیج بنایا ہے، اور وہ بھی بچانے کے نام پر۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے لوڈشیڈنگ کے خلاف نیون سائن!‘

  • سنہ 1980 میں موئنجودڑو کے ان کھنڈرات کو اقوامِ متحدہ کی تنظیم یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا تھا۔

  • ندا سمیر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ثقافتی فیسٹیول یا ثقافت کی تباہی؟ فیسٹیول کا سٹیج موئنجودڑو کے کھنڈرات پر۔‘

    عمر رحیم نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’یہ آثارِ قدیمہ کو آثار میں بدلنے کی کوشش ہے یا آثار کو مٹانے کی؟‘

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔