اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

مذاکرات کے آغاز کے پہلے دن ہی تلخی

حکومتِ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی چار رکنی کمیٹی اور طالبان کی نامزد کمیٹی کی طے شدہ ملاقات منگل کو نہیں ہو سکی جس کے بعد حکومت اور طالبان کے مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے یہ وضاحت طلب کی ہے کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کتنی بااختیار ہے؟ اس کے پاس کیا مینڈیٹ ہے؟ اور کیا یہ بڑے فیصلے کر سکتی ہے؟

طالبان کی کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کی جانب سے کمیٹی کو مکمل اختیارات حاصل ہیں جبکہ انھوں نے حکومت سے سنجیدہ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ مذاکرات کے آغاز کے پہلے دن ہی تلخی اور منصوبہ بندی کی کمی کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

اسلام آباد سے ارم عباسی عباسی کی رپورٹ