ماروی میمن
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’میڈیا وہ کرے جو قومی مفاد میں ہے‘

گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے صحافتی ادارے اپنی حفاظت کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں اور ان پر کئی حملے بھی ہو چکے ہیں۔

اِسي موضوع پر نامہ نگار آصف فاروقي نے قومي اسمبلي ميں ميڈيا کي قائمہ کميٹي کي چيرپرسن ماروي ميمن سے بات کي اور پوچھا کہ حکومت اور سياسي قيادت نے کيا ميڈيا کو شدت پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ ديا ہے؟