بھارت کا سب سے مشکل الیکشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں الیکشن

'بھارت کا انتخابی عمل شروع ہو چکا ہے ۔ نو مرحلوں میں سے چار مرحلوں کی ووٹنگ بھی پوری ہو چکی ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور رہنما اپنی پوری طاقت کے ساتھ انتخابی مہم میں مشغول ہیں ۔

گزشتہ دو برس کے دوران انا ہزارے اور اروند کیجریوال نے بد عنوانی اور ملک کے سیاسی نظام کے خلاف جو تحریک چلائی اس کے نتیجے میں پورے ملک میں عوامی سطح اور خاص طور پر نوجوان نسل میں سیاسی شعور بیدار ہوا اور ان میں ایک حد تک اپنی اجتماعی ذمے داریوں کا احساس بھی پیدا ہوا ۔ انتخاب میں ایسی دلچسپی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ۔ ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی کی زبردست خواہش نے موجودہ انتخابات کو ایک تاریخی انتخاب میں تبدیل کر دیا ہے ۔ اب تک سبھی مرحلوں میں سبھی ریاستوں میں گزشتہ انتخاب کے مقابلے اس بار اوسطاً بارہ فی صد ووٹ زیادہ پڑ رہے ہیں ۔

انتخابات تو یقیناً سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے لیکن پچھلے کئی عشروں میں یہ پہلا ایسا انتخاب ہے جس میں ہر سیاسی جماعت سخت ترین مشکلوں سے گزر رہی ہے ۔ اگر انتخابی جائزوں اور انتخابی ماہرین کے تجزیوں پر یقین کریں تو کانگریس ان انتخابات میں بدترین شکست کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اتر پردیش اور بہار میں ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی اور مایاوتی کی بی ایس پی اور بہار میں لالو کا راشٹریہ جنتا دل اور نتیش کا جنتا دل یونائیٹڈ انتخابات کے بعد انتشار اور حتمی زوال کی طرف بڑھنے والے ہیں۔

انتخابی جائزوں کے مطابق نریندر مودی کی بی جے پی اتر پردیش اور بہار جیسی ریاستوں میں بہت کم عرصے میں سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔ اور کانگریس کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں برسوں لگ جائیں گے ۔

سیاسی تجزیہ کار اور انتخابی پنڈتوں نے ابھی سے ہی نریندر مودی کو وزیر اعظم قرار دے دیا ہ ۔ یہاں تک کہ خود مودی نے ووٹنگ کی اونچی شرح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذمےداریاں اب بڑھ گئی ہیں ۔ مبصروں کا لب و لہجہ بدلنے لگا ہے ۔ اخبارات اورخاص طور سے ٹی وی چینلوں کا رحجان واضح طور پرمودی حامی ہو چکا ہے ۔ ایک تجزیہ کار نے تو 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد مودی کی کابینہ تک کے بارے میں اپنا خیال ظاہر کیا ہے ۔

پورے ملک میں اس وقت عوامی سطح پر دو تین پہلو بہت واضح ہیں ۔ پہلا تو یہ کہ پورے ملک میں کانگریس کے خلاف بیزاری پائی جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ مودی یا بی جے پی کی کوئی لہر نہیں ہے ۔ لیکن تبدیلی کی خواہش بڑی تعداد میں غیر وابستہ ووٹروں کو کوئی اور متبادل نہ ہونے کی صورت میں بی بے پی کی طرف راغب کر سکتی ہے ۔

‏عام آدمی پارٹی بھی ان انتخابات میں اتری ہے ۔ محدود وسائل اور تیاری کے لیے وقت نہ ملنے کے سبب اسے زیادہ سیٹیں ملنے کی امید کم ہے لیکن ملک کی قومی سیاست میں اس کا کردار طے ہو چکا ہے ۔ انتخابات کے بعد وہ یقینی طور پر ایک قومی پارٹی کی شکل لے چکی ہو گی ۔

اگرچہ ہر کوئی مودی کی فتح کی پیش گوئیاں کر رہا ہے لیکن انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹنگ ، کسی رہنما کی لہر نہ ہونے ، مودی کی متنازعہ شخصیت اور علاقائی جماعتوں کی اپنی مقبولیت ایسے پہلو ہیں کہ ووٹنگ سے پہلے حقیقت کا صحیح اندازہ لگانا بھی انتہائی مشکل ہے۔ بھارت میں سیاسی جماعتوں کو اتنے مشکل انتخاب کا سامنا شاید پہلے کبھی نہیں کرنا پڑا ہے ۔

اسی بارے میں