اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’کتاب سے پولیس پر بحث چِھڑ گئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ panmacmillan

پاکستان سے تعلق رکھنے والے مصنف عمر شاہد حامد کی کتاب ’دا پرِزنر‘ یعنی ’قیدی‘ آج برطانیہ میں شائع ہو رہی ہے۔

کتاب کی کہانی کچھ یوں ہے کہ جب ایک امریکی صحافی کا کراچی سے اغوا ہو تا ہے، تو حکام اور ایجنسیاں اُس پولیس افسر کے پاس مدد کے لیے آنے پر مجبور ہو جاتی ہیں جو کہ شاید واحد تفتیش کار ہے جو اس کیس میں کوئی پیش رفت کر سکے۔

لیکن وہ پولیس اہلکار خود جیل میں قید ہوتا ہے۔

یہ کتاب کراچی کے پُر تشدد حالات اور مشکل سیاست کی کہانی بھی ہے اور دوستی اور وفاداری کی بھی۔ عمر شاہد حامد خود کراچی پولیس میں رہ چکے ہیں اور اس ساری صورتحال انہوں نے قریب سے دیکھا ہے۔

لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورئینٹل اینڈ ایفرکن سٹڈیز میں کتاب کی ’لانچ‘ کی تقریب سے پہلے عنبر خیری نے عمر شاہد حامد سے کتاب کے بارے میں بات کی اور سب سے پہلے تو یہ پوچھا کہ برطانیہ میں کی اشاعت اب ہو رہی ہے لیکن برصغیر میں کئی ماہ پہلے یہ شائع ہوئی تھی تو اس پر رد عمل کیا ملا ہے؟ ریسپانس کیا رہا ہے؟