’دولتِ اسلامی‘ میں مزاروں کی تباہی

عراق میں شدت پسند گروپ دولت اسلامی عراق و شام (داعش یا آئی ایس آئی ایس) نے شام اور عراق میں اپنے کنٹرول والے علاقوں میں ایک اسلامی مملکت یا خلافت اسلامیہ قائم کر کے ابوبکر البغدادی کو’خلیفہ‘ مقرر کیا ہے۔ ابوبکر البغدادی نے گذشتہ روز سنیچر کو ہی ایک ویڈیو پیغام میں مسلمانوں سے ان کی اطاعت کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس علاقے میں ابوبکر کی خلافت کے بعد مزاروں اور مذہبی مقامات کی تباہی شروع ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عراق میں داعش نے درجنوں مذہبی مقامات اور مزاروں کو تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ تباہی کے یہ مناظر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری کیےگئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان تصاویر میں عراقی شہر موصل میں مسلمانوں کے شیعہ فرقے کے اہم مذہبی مقام القباء حسینیہ مزار کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق دولت اسلامی کے ہراول دستوں میں شامل جنگجوؤں میں زیادہ تعداد سعودی شہریوں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسلامی شدت پسندوں نے موصل سے تقریباً 50 کلومیٹر دور تل عفر میں واقع سعد بن عقیل حسینیہ مزار کو بھی دھماکہ خیز مواد کی مدد سے تباہ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اطلاعات کے مطابق موصل میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے علاوہ شدت پسندوں نے گرجا گھروں پر بھی حملے کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان شدت پسندوں کے اسلام کے سخت گیر موقف کے تحت صوفی بزرگوں اور اسلامی شخصیات کی قبروں اور مزاروں کی بہت زیادہ تعظیم، عزت و احترام اسلامی عقائد کے منافی ہے اور اس کو غیر شرعی تصور کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تل عفر کے قریب ضلع مہلیبہ میں واقع احمد الرفعائی کے مزار کو بلڈوروں کی مدد سے مسمار کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شدت پسندوں نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے مقدس مقامات کی تباہی کا سلسلہ جاری رکھیں گے جو انھیں قبول نہیں ہیں۔