داعش کے ہاتھوں امریکی یرغمالی کی ہلاکت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ The Daily Courier
Image caption دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے کائیلا مولر کو حلب میں رفاعی خدمات دیتے ہوئے یرغمال بنا لیا تھا

امریکہ کی حکومت نے دولتِ اسلامیہ کے ہاں یرغمال امریکی شہری کائیلا مولر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

معلومات کے مطابق کائیلا مولر دولت اسلامیہ کے ہاتھوں یرغمال ہونے والی آخری امریکی شہری تھیں۔

ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اس خبر سے ’دلبرداشتہ‘ ہیں۔ انھووں نے کائیلا کی قید کے دوران لکھاگیا ایک خط بھی جاری کیا ہے۔

صدر براک اوباما نےکائیلا مولر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’امریکہ کی اچھائیوں کی بہترین نمائندہ ہیں‘۔

دولتِ اسلامیہ نے گزشتہ مہینے بنا کوئی ثبوت فراہم کیے یہ کہا تھا کہ کائیلا مولر اردن کی جانب سے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

چھبیس سالہ مولر سنہ 2013 میں شام کے شہر حلب میں رفاعی خدمات انجام دیتے ہوئے یرغمال بنا لی گئی تھیں۔

ایک بیان میں ان کے خاندان کا کہنا تھا:’ہمارے دل اپنی بیٹی کے لیے چاک ہوئے جا رہے ہیں لیکن ہم پھر بھی اس کی خاطر امن، وقار اور محبت کو قائم رکھیں گے۔‘

2014 میں لکھےگئے ایک خط میں مولر نے اپنے خاندان کو تسلی دی تھی کہ ان کو انتہائی احترام کے ساتھ رکھا گیا ہے۔

اپنے خط میں انھوں نے مزید لکھا تھا کہ ’میں ایک وقت میں صرف تھوڑا سا ہی لکھ سکتی ہوں کیونکہ آپ لوگوں کے بارے میں ایک خیال ہی مجھے رونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگ چاہیں گے کہ میں اس مشکل وقت میں ثابت قدم رہوں اور میں بالکل یہی کر رہی ہوں۔‘

محترمہ مولر کی موت کا ان کے خاندان کو ہفتے کے آخر میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے بھیجے گئے ایک پیغام سے پتہ چلا جس کی بعد میں امریکی انٹیلی جنس نے بھی تصدیق کردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mueller Family
Image caption مولر خاندان کائیلا مولر کی ہلاکت کی تصدیق ہونے یہ نئی تصویر جاری کی ہے۔

ایک بیان میں صدر اوباما نے مولر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ان کو ہم سے چھین لیا گیا ہے، لیکن وہ حق اور اچھائی کے لیے کے لڑنے والوں کے لیے ایک ابدی مثال ہیں اور چاہے کتنا ہی وقت لگے امریکہ کائیلا مولر کو اغوا اور قتل کر نے والے دہشت گردوں کو تلاش کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔