حدیقہ
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کم عمری میں شادیوں کے خلاف آواز

اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان میں 24 فیصد آبادی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے جس میں ایک کثیر تعداد لڑکیوں کی ہے۔آج ہی پنجاب اسمبلی نے کم عمری کی شادی کی ممانعت سے متعلق ترمیمی بل بھی منظور کر لیا گیا ہے جس کے تحت موجودہ سزا میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ کم عمری کی شادی کے حوالے سے وادی سوات میں بھی صورتِ حال کوئی مختلف نہیں۔ اسی لیے سوات کی رہائشی ایک 14 سالہ سماجی کارکن، حدیقہ بشیر اس روایت کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ وہ گھر گھر جا کر والدین کو اپنی بیٹیوں کی کم عمری کی شادی نہ کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ صحافی انور شاہ نے ان سے بات کی اور پہلے یہی پوچھا کہ آخر کم عمری میں شادیوں کے اس رواج کی وجہ کیا ہے؟