بنگلور کےسنہرے دنوں کی یادیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارتی کارٹونسٹ پال فرنینڈس نے سنہ 1960 اور ستر کی دہائی کے بنگلور کی زندگی کو خاکوں میں پیش کیا ہے۔ کارٹونوں کی اس سیریز میں پال فرنینڈس نے بنگلور کے مشہور مقامات اوراپنے آبائی گھر کو پینٹ کیا ہے۔

پال فرنینڈس بتاتے ہیں کہ دس سال پہلے ان کے آبائی گھر کو مسمار کر کے وہاں ان کے نو بہن بھائیوں کے لیےاپارٹمنٹ تیار کیےگئے۔ یہ ایک بہت بڑا اور خوبصورت گھر تھا جس میں چالیس پھلدار درخت تھے۔ پال بتاتے ہیں:’جب میں نے اپنے گھر کو مسمار ہوتے دیکھا تو میں نے بدلتے ہوئے شہر کی پینٹنگ شروع کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بنگلور کلب کی عمارت انگریزی فنِ تعمیرات کا خوبصورت نمونہ ہے۔ سنہ1868 میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت اب بھی موجود ہے اور اس کی اچھی دیکھ بھال ہو رہی ہے۔ اس کلب کے ممبران میں سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل بھی ہیں جن کے ذمہ اب بھی تیرہ روپے یعنی چودہ پینی ادھار ہے۔یہ وہی جگہ ہے جہاں مشہور زمانہ فلم ’پیسج ٹو انڈیا‘ کے کچھ حصوں کی عکسبندی ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اچھے وقتوں میں آپ کو حجام کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ حجام آپ کے گھر آتے تھے۔ حجام کے آنے کے بعد گھر سے کرسی باہر نکال کر درخت کے نیچے رکھ دی جاتی اور پورے خاندان کے مردوں اور عورتوں کی حجامت ہوتی تھی۔ پال فرنینڈس بتاتے ہیں کہ ان حجاموں کو صرف ایک ہی سٹائل بنانا آتا تھا۔’میری بہن حجام کو کتاب سے نئے نئے سٹائل دکھاتی تھی لیکن وہ ایسا انداز بنا نہیں سکتا تھا۔‘ ستر کی دہائی میں جب ہم سب بہن بھائیوں نے ہِپی سٹائل میں اپنے بال بڑھانا شروع کر دیے تو یہ بات ہمارے حجام کو پسند نہیں آئی کیونکہ اس سے کا کاروبار خراب ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پال فرنینڈس بتاتے ہیں کہ ایم جی روڈ پر واقع کافی ہاؤس ہماری پوری کائنات تھی جہاں شہر کے صحافی بھی آیا کرتے تھے۔کافی ہاؤس میں اس وقت بھی اور اب بھی بہترین کافی پیش کی جاتی ہے۔ یہاں اچھا معیاری دوسا اور آملیٹ تیار کیا جاتا تھا اور لنچ ٹائم پر یہاں بہت رش رہتا تھا۔ کئی مرتبہ صحافی ہمارے قریب بیٹھے ہوئے خبروں کی سرخیاں پر بحث کر رہے ہوتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بنگلور کی کمرشل مارکیٹ شہر کا سب سے بڑا شاپنگ سنٹر تھا جہاں سے جوتوں، زیورات اور کھلونوں سمیت ہر چیز مل جاتی تھی۔پال فرنینڈس بتاتے ہیں:’میری ماں کرسمس کے موقع پر سال میں صرف ایک بار مجھے اور میرے نو بہن بھائیوں کو مارکیٹ لے کر جاتی تھیں۔وہ کپڑوں کا تھان لے کر ہمیں درزی کے پاس لےجاتی تھی جو ہمارا ناپ لے کر ہمارے کپڑے تیار کرتا تھا۔ہم سب کے کپڑے ایک جیسے ہوتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

1910میں تعمیر ہونے والے برٹش ہاؤس کی عمارت کو پولیس سٹیشن میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ یہ عمارت اب بھی ویسی ہی ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بنگلور میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔ کبھی کبھار کوئی سائیکل چرا لیتا تھا۔ پال فرنینڈس کہتے ہیں:’جب میں سکول میں پڑھتا تھا تو میں اور میرے دوست سائیکل پر شہر میں گھوما کرتے تھے۔ پولیس کی ہیٹ اتنی عجیب و غریب ہوتی تھی۔ ہم اکثر پولیس والوں کو چھیڑ کر بھاگ جاتے تھے۔ البتہ ایک دفعہ میں پکڑا گیا اور مجھے اسی پولیس سٹیشن کے ایک کمرے میں رکھا گیا۔ پولیس نے مجھے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میری ماں نے تھانے آ کر پولیس سے معافی نہیں مانگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ کارٹونسٹ پال فرنینڈس کے آبائی گھر کا خاکہ ہے اور خاکے میں نظر آنے والی عورت ان کی بہن ہے۔ فرنینڈس بتاتے ہیں کہ ان کی یہ بہن بہت خوبصورت تھی اور نوجوان لڑکے ان سے بات کرنے کوشش کرتے تھے لیکن ان کے ایک چچا ہر وقت ادھر ادھر منڈلاتے رہتے تھے اور لڑکوں کو ڈرانے کےلیے ہر وقت ایک ایئرگن لیے گھومتے رہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

برٹش کونسل کی عمارت کے نیچے قائم ’کوشے بار‘ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بہت مقبول تھا اور اب بھی ہے۔ یہ بار اب بھی اتنا مقبول ہے کہ ریاست کے وزیرِ اعلی بھی یہاں کافی پینے آتے تھے۔ شہزادہ چارلس 1980 میں شہر میں آئے تو انھوں نے بھی کوشے بار کا دورہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پال فرنینڈس بتاتے ہیں کہ یہ ریلوے کراسنگ ان کےگھر سے صرف آدھا کلو میٹر دور ہے۔ساٹھ اور ستر کی دھائی میں جب ٹرین مدراس (اب چنائی) سے بنگلور آتی تھی تو اس ریلوے کراسنگ کو دس منٹ کے لیے بند کر دیا جاتا تھا۔’ جب ہم اس ریلوے کراسنگ پر کھڑے ہوتے تھے تو ہم مسافروں کو ہاتھ ہلاتے تھے اور وہ جواباً ہاتھ ہلاتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ساٹھ اور ستر کی دھائی میں برج روڈ بنگلور کی ایک ایسی جگہ تھی جہاں فیشن ایبل لوگ شام کو گھومنے آتے تھے۔ ایک انڈین امریکن جوڑے نے وہاں ایک ریسٹورنٹ کھولا جہاں انھوں نے ایپل پائی متعارف کروائی۔میوزک کا شوق رکھنے والے کچھ لوگ گٹار اٹھائے وہاں آتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کارٹونسٹ پال فرنینڈس کا آبائی گھر پھل دار درختوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس زمانے میں مردوں کے لیے یہ عام تھا کہ وہ دوپہر کا کھانا درختوں کے سائے میں بیٹھ کر کھاتے تھے اور وہیں قیلولہ بھی کیا جاتا تھا۔ایسا صرف مرد ہی کر سکتے تھے۔ عورتوں کاگھر سے باہر بیٹھنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پلازہ سینما شہر کا واحد سینما تھا جہاں ہالی وڈ کی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔پال فرنینڈس بتاتے ہیں کہ میں اپنی آنٹی کے ساتھ ’گون ود دا ونڈ‘ دیکھنے جاتا تھا۔ایک دفعہ ان کی آنٹی جب فلم دیکھنے گئیں تو ان کی گاڑی کے چاروں ٹائر کوئی اتار کر لےگیا تھا۔