صدی کی سب سے طویل جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس جنگ میں تقریباً دس لاکھ لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ دونوں طرف سے ایک پوری نسل کو اس کے نقصانات اٹھانے پڑے

ساری جنگیں ایک نہ ایک دن اپنے اختتام کو پہنچتی ہیں۔ لیکن ختم ہونے کے بعد بھی یہ جنگیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔

35 سال پہلے اس صدی کی سب سے طویل جنگ کا آغاز ہوا۔ لیکن ایران اور عراق کے درمیان ہونے والے اس آٹھ سالہ طویل تصادم کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔

مصنف اور نیویارک یونیورسٹی آف گیلاٹن سکول کے سنان انٹون کی پیدائش بغداد کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’بہت سے زاویوں سے یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔‘

سکاٹ لینڈ میں یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز کے پروفیسر علی انصاری کہتے ہیں: ’میرے خیال میں ایران عراق جنگ کے سب سے اہم اثرات اسلامی جمہوریہ ایران کی تخلیق پر مرتب ہوئے۔ اور سخت گیر سوچ رکھنے والے پاسدارانِ انقلاب نے اس داستان کو اپنی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا۔‘

اس کی انسانی قیمت انھیں ابھی تک ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

بغداد کے مصنف سنان انٹون کا کہنا ہے کہ ’اس جنگ میں ہمارے ہمسایے کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ 1990 میں جب صدام حسین نے اس جنگ پر اپنے تمام تر وسائل استعمال کر لیے تو ہمارے ہمسائے نے سوال کیا: ’ہم نے اپنی دونوں ٹانگیں کیوں ضائع کیں؟ اس کا کوئی مقصد نہیں تھا۔‘

اس جنگ میں تقریباً دس لاکھ لوگوں کی جانیں گئیں۔ دونوں طرف سے ایک پوری نسل کو اس کے نقصانات اٹھانے پڑے۔ لیکن اس جنگ سے سیکھے گئے سبق تھوڑے ہی عرصے میں علاقائی تنازعات کی زد میں آ کر کہیں کھو گئے۔

ان تنازعات کی آگ کو بھڑکانے میں پراکسی جنگوں (دوسروں کے ایما پر جنگ) کا بڑا کردار تھا۔ جو کہ علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان ہیں۔ شام، عراق اور یمن کے تنازعات کے پیچھے بہت سے نکات ہیں۔ جیسا کہ شیعہ بمقابلہ سنی اور ایرانی بمقابلہ عرب۔ اس نئی سرد جنگ کے اتحادیوں کی بنیاد ماسکو اور واشنگٹن نے رکھی۔

Image caption خمینی کو شاہ کا تختہ الٹنے کے بعد اندرونی خطرات کا سامنا تھا

ایران اور عراق کی جنگ کئی معنوں میں ایک مختلف وقت کی جنگ تھی۔ عراق اس وقت صدام حسین کے آمرانہ دور سے گزر رہا تھا۔ 2003 میں امریکہ اور اتحادیوں کی طرف سے کیے گئے حملوں کے بعد صدام کی حکومت کا تختہ الٹ گیا اور مقدمات چلنے کے بعد انھیں پھانسی دے دی گئی۔ ہمسایہ ملک ایران میں اس وقت آیت اللہ خمینی کا دور تھا جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد واپس آئے تھے۔

خمینی کو شاہ کا تختہ الٹنے کے بعد اندرونی خطرات کا سامنا تھا۔ روایتی حریف صدام سے تنازعے نے ایرانی قوم کو متحد کر دیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازع ستمبر 1980 میں سرحدی جھڑپوں کی شکل اختیار کر گیا۔ عراقی دستوں نے ایرانی علاقوں کے اندر کئی سو میل تک پیش قدمی کی اور ان کی فضائیہ نے تہران کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔

پروفیسر منصور فرہنگ ایران عراق جنگ سے ایک سال قبل تک ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر تھے۔ انھوں نے دیگر بین الاقوامی ثالثوں کے ساتھ مل کر اس جنگ کو روکنے کی بہت کوشش کی تھی۔ وہ کہتے ہیں: ’اس غیر قانونی مداخلت کا ذمہ دار قانونی نقطۂ نظر سے ویسے تو صدام کو ٹھہرایا جا سکتا ہے، لیکن خمینی نے پراپیگنڈے کے ذریعے انھیں اکسایا۔‘

یہ جنگ جیسے جیسے طویل ہوتی گئی، ویسے ویسے دونوں ملکوں کے لیے بیرونی امداد اور حمایت میں اضافہ ہوتا گیا۔ امریکہ اس جنگ میں عراق کا فوجی اور مالی لحاظ سے بڑا اتحادی بن کر ابھرا۔ جبکہ ایران کے لیے اس کے پرجوش سپاہیوں نے جان دی۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جنگ کا نام ’بھولی ہوئی جنگ‘ پڑ گیا اور عراق اور ایران کو اس جنگ کی قیمت بہت دیر تک مختلف صورتوں میں ادا کرنی پڑی۔

اسی بارے میں