اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’بلیئر اور بش پر جنگی جرائم کی عدالت میں مقدمہ قائم کیا جائے‘

عراق پر امریکی اور برطانوی فوجوں کی یلغار کو 12 برس گزر چکے ہیں۔ جنگ سے پہلے بھی اور بعد میں بھی برطانیہ کے مختلف حلقوں کی جانب سے جنگ کی مخالفت اور بلیئر حکومت پر تنقید ہوتی رہی ہے۔

پاکستانی نژاد لارڈ نذیر برطانوی ہاؤس آف لارڈز یعنی دارالامرا کے آزاد رکن ہیں۔ وہ جنگِ عراق کے وقت حکمراں جماعت لیبر پارٹی کی بھی رکنیت رکھتے تھے۔ وہ اس جنگ کی کھل کر مخالفت کرتے رہے ہیں۔

ہمارے ساتھی عمر آفریدی نے نے لارڈ نذیر سے پوچھا کہ 12 برس بعد اب ٹونی بلیئر کو اپنی غلطی کا احساس کیوں ہوا؟