اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

خواتین کے حقوق اور ذمہ داریاں

Image caption پنجرہ توڑ مہم کا مقصد لڑکیوں کے ہاسٹل کے کرفیو کے بارے میں رائے عامہ اجاگر کرنا ہے

جنوبی ایشیائی خواتین کا خیال ہے کہ بے شک پاکستان میں ہو یا بھارت یا بیرونِ ملک معاشرہ عورتوں سے توقعات کے حوالے سے بدل رہا ہے۔

بی بی سی اردو اور بی بی سی ہندی نے سو خواتین کے سیزن کے سلسلے میں پاکستانی اور بھارتی خواتین کے ساتھ ایک گوگل ہینگ آؤٹ کا اہتمام کیا۔

دہلی سے ’پنجرہ توڑ‘ مہم کے لیے کام کرنے والی خواتین اونتیکا، ایشانی اور گیاتری نے شرکت کی جبکہ لندن سے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر سندس علی اور وکیل شازیہ کاظمی شامل ہوئیں۔

پنجرہ توڑ مہم کا مقصد لڑکیوں کے ہاسٹل کے کرفیو کے بارے میں رائے عامہ اجاگر کرنا ہے اور اس کے لیے کام کرنے والی ایشانی نے بتایا کہ ’جب آپ نے تعلیم مکمل کی تو آپ کی شادی کر دی جائے گی اور کہانی ختم۔ تعلیم عورتوں کی ترقی کی بجائے سماجی حیثیت کا پیمانہ ہے۔‘

شازیہ کاظمی کا کہنا تھا کہ ’لڑکیوں سے توقعات وہی رہتی ہیں بلکہ ملازمت کی صورت میں بڑھ جاتی ہیں اور گھر کی ذمہ داریاں اپنی جگہ رہتی ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے آپ کو یہ احساس دلانے میں کہ آپ دوسروں سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption گوگل ہینگ آؤٹ پر بحث

ڈاکٹر سندس علی کا خیال تھا کہ ’لڑکوں میں تبدیلی آ رہی ہے اور اس سے معاشرے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آ رہی ہے۔ مگر یہ آپ ہیں جسے فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا اہم ہے اور کسے ترجیح ملے۔ اگر آپ ایک مضبوط لڑکی ہیں تو سب کچھ اپنی جگہ پر آ جائے گا اور آپ پراعتماد محسوس کریں گی۔ لڑکیوں سے توقعات زیادہ ہونا غلط نہیں اس کو منفی نہ لیں۔‘

لڑکیوں سے توقعات پر تنقید کرتے ہوئے اونتیکا نے کہا کہ ’مجھ سے توقع ہے کہ میں اچھی بیٹی، ماں، بہن ہوں مگر میری خواہش کیا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں۔ ایسی توقعات مردوں سے نہیں ہیں۔‘

انھوں نے رات کو خواتین کے باہر نکلنے سے روکے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر عورتیں رات کے آٹھ یا نو بجے باہر نکلنا شروع کریں تو یہ تصور ختم ہو گا کہ رات گئے باہر نکلنا درست نہیں یا پرخطر ہے۔‘