اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان کے لیے کیا تبدیلی لائے گی؟

افغانستان میں امن کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی اہمیت پر بی بی سی اردو نے خصوصی گوگل ہینگ آؤٹ کا اہتمام کیا۔

گوگل پلس اور یوٹیوب پر براہِ راست نشر کیے گئے اس ہینگ آؤٹ میں کابل سے سماجی کارکن آرزو صافی جبکہ اسلام آباد سے نجی پشتو چینل خیبر ٹی وی سے تعلق رکھنے والے صحافی حسن خان اور نیوز ویک کے نامہ نگار سمیع یوسفزئی نے شرکت کی۔

آپ یہ گوگل ہینگ آؤٹ ہمارے یوٹیوب چینل اور فیس بُک پیج پر دیکھ سکتے ہیں جبکہ اسے ہمارے آڈیو بوم چینل پر بھی سن سکتے ہیں۔

اس گوگل ہینگ آؤٹ کے آغاز میں میزبان ہارون رشید نے آرزو صافی سے اس کانفرنس سے وابستہ توقعات پر سوال پوچھا تو اُن کا خیال تھا کہ ’پاکستان ہمیشہ موسمِ سرما میں مذاکرات شروع کر دیتا ہے اور اس سے امیدیں بہت کم ہیں۔‘

آرزو کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک خصوصاً افغانستان پاکستان پر اعتبار نہیں کرتا جس کی وجہ سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے تاہم صحافی حسن خان کا خیال تھا کہ ’افغان خود اپنے ملک میں امن نہیں چاہتے ہیں‘ اور افغان میڈیا اور اشرافیہ ہر چیز کا الزام پاکستان پر دھرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ’افغان حکام پاکستان کے خلاف نفرت کی سرپرستی کرتے ہیں اور سرکاری سطح پر مختلف بات کرتے ہیں اور عوامی سطح پر مختلف۔‘

حسن خان نے مزید کہا کہ افغانستان میں مختلف سماجی تنظیموں نے ایک جائزہ رپورٹ تیار کی جس کے پچانوے فیصد نکات ملک کے اندورنی حالات کو ملک میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ صرف پانچ فیصد بیرونی ہاتھ کی بات کرتے ہیں۔

صحافی سمیع یوسفزئی نے طالبان کے سیاسی عمل میں شمولیت کے حوالے سے کہا کہ افغانستان میں اب بھی کئی سیاسی جماعتیں جو اس سے پہلے جہادی تنظمیں تھیں اور حقیقت یہ ہے کہ طالبان کابل پر قبضہ نہیں کر سکتے جبکہ افغان حکومت کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکی تو راستہ یہی ہے کہ انہیں سیاسی قوت میں تبدیل کیا جائے۔