اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شام کا مستقبل کیا ہو گا؟

شام ميں خانہ جنگي کے خاتمے کے لیے آج نیویارک میں عالمی طاقتیں سر جوڑ کر بيٹھ رہی ہیں۔ جب پانچ سال قبل مشرق وسطيٰ ميں انقلاب کي لہرآئي تو يہ تيونس، مصر اور ليبيا سے ہوتي ہوئي شام پہنچي جہاں پرامن مظاہروں نے ايک ايسي خانہ جنگي کي شکل اختيار کي کہ لاکھوں افراد در بدر ہوگئے اور حالیہ عرصے میں یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں میں اکثریت کا تعلق شام سے ہے۔ ہماري نامہ نگار لیز ڈوسیٹ گذشتہ پانچ سال سے اس خانہ جنگي کي رپورٹنگ کر رہي ہيں۔